سانچSANCH-MONOGRAM-300x154
اسلامی تہوار اور مصنوعی مہنگائی
تحریر محمد مظہررشید چوہدری 03336963372
وطن عزیز پاکستان اسلام کے نام پر معرض وجود میں آنے والی واحد اسلامی ریاست ہے جوکہ 97فیصد سے زائد مسلمانوں کی آبادی والا ملک ہے تاریخی اوردرسی کتب کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات انتہائی زور دے کر لکھی گئی ہے کہ پاکستان بنانے کا بنیادی مقصد مسلمانوں کے لیے ایک ایسی اسلامی فلاحی ریاست کو وجود میں لانا تھا جہاں مسلما ن آزادی سے اپنی رسومات اور زندگیاں اسلام کے سنہری اصولوں کے مطابق گزار سکیں اپنے بزرگوں سے بھی ہم نے یہ ہی سنا تھا کہ پاکستان کے بنانے کا بنیادی مقصد اسلامی فلاحی ریاست کا قیام تھا تقسیم سے پہلے ہندوستان میں مسلمانوں کو ملازمتوں اور خاص طور پر اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اتنی آزادی حاصل نہ تھی جتنی ایک الگ اسلامی ریاست کے قیام سے حاصل ہونے کی توقع رکھی جارہی تھی مسلمان اور ہندو ہزار سال تک اکھٹے رہے اس وقت ہندوستان پر مختلف حکمرانوں کی حکومت آتی جاتی رہی لیکن انگریز کے برصغیر پر قبضے کے بعد مسلمانوں کے لیے ہر میدان میں دروازے بند ہوتے چلے گئے جسکی بے شمار وجوہات بیان کی جا سکتی ہیں میرا مقصدیہ مختصر تمہید باندھنے کا یہ تھا کہ وطن عزیز ایک اسلامی ریاست ہے جہاں 97فیصد سے زائد مسلمانوں کی آبادی ہے الحمداللہ وطن عزیز پر حکمرانی کرنے والے بھی مسلمان ہیں 67سال آزادی حاصل کیے ہوئے گزر چکے ہیں ہر سال یہاں اسلامی تہوار منائے جاتے ہیں خاص طور پر عید الفطر اور عید الاضحی پروطن عزیز کے کاروباری طبقہ چاہے بڑا ہے یا چھوٹا یہاں تک کے پھیری والا بھی ان عیدیں پر مصنوعی مہنگائی کر کے وہ اشیاء بھی فروخت کر لیتا ہے جو سارا سال کم معیاری ہونے کی بنا پر فروخت نہیں ہوسکتیں حکومت ان سب کے سامنے بے بس نظر آتی ہے جب یہاں سب مسلمان ہیں سب نے اکھٹی خوشیاں منانی ہیں تو نجانے پھر کیوں اپنے ہی اپنوں کو لوٹ رہے ہیں پنجاب میں میاں شہباز شریف کا سستے رمضان بازار لگانے اقدام چند حلقوں میں اچھا سمجھا جا رہا ہے لیکن کیا ہی اچھا ہوتا کہ یوٹیلٹی سٹورز جو کہ وطن عزیز میں تقریباََ ہر قصبے گاؤں شہر میں موجود ہیں وہیں پر عوام کو مزید اور سہولتیں فراہم کر دی جاتیں میری سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ شہروں میں لگائے گئے رمضان بازاروں سے نواحی علاقوں کے لوگ کیسے مستفید ہو سکتے ہیں ایک خاتون نواحی علاقہ جبوکہ سے چل کر اوکاڑہ کے رمضان بازار سے چند روپے سستی لینے کیوں آئے گئی؟ کیا یہ اچھا نا ہوتا کہ وطن عزیز کے ہر گلی محلہ کی دوکان پر اشیاء خوردونوش معیاری اور سستی فراہم کرنے کے انتظامات کیے جاتے لاکھوں کی تعداد میں حکومتی ملازمین کو ڈیوٹیاں دی جاتیں کہ اشیاء سستے داموں فروخت کروائی جائیں جو کہ اب ایک خواب ہی بن چکا ہے چند دن بعد عیدالفطر کی آمد آمد ہے تاجروں نے اپنی اشیاء مہنگے داموں فروخت کر لی ہیں اور چند ماہ بعد عیدالاضحی پر جانوروں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرتی نظر آئیں گی لیکن اس وقت بھی کس کو احساس نہ ہوگا کہ وطن عزیز حاصل کرنے کا مقصد کہاں کھو گیا ہے ؟سنا اور دیکھا ہے کہ دنیا کے دیگر ممالک اور مذاہب کے لوگ اور حکومتیں اپنے مذہبی تہواروں پر اشیاء کی قیمتیں نصف کر دیتے ہیں تاکہ ہر شخص ان تہواروں سے اسکی روح کے مطابق مستفید ہوسکے کیا میرے وطنمیں ایسا نہیں ہو سکتا ؟؟؟***