سانچSANCH-MONOGRAM-300x154
کیا سب ٹھیک ہے ؟؟؟
تحریر محمد مظہررشید چوہدری 03336963372

عید الفطر کے موقع پر بڑے بڑے اشتہارات سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ ضلع بھر میں انتظامیہ نے اپنے فرائض سے بڑھ کر عوام کی خدمت میں اپنا وقت صرف کر رکھا ہے خاص طور پر ماہ رمضان المبارک میں تو انتظامیہ نے عوام کو ہر چیز معیاری اور انتہائی ارزاں نرخوں پر فراہم کرنے کی ذمہ داری انتہائی احسن طریقہ سے سرانجام دی ہمارے قبیلہ کے لوگوں نے اپنے اداروں کا پیٹ بھرنے کے لیے عیدالفطر پر جو اسپیشل اشاعت شائع کروائی ہیں ان میں سے بعض کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ میڈیا کا کام صرف انتظامی سربراہاں کی چاپلوسی کے علاوہ کچھ نہیں رہ گیا بعض اخبارات کے نمائندگان نے انتظامی سربراہان کی تصاویر کو جرنلسٹس گروپ(یونین) میں بھی شامل کر کے عید مبارک کے اشتہارات شائع کروا دیے ہیں کیا میرے دوستوں کو اپنے شہر میں عید سے پہلے شہر میں پھیلی گندگی اور ناجائزتجاوزات نظر نہیں آئیں؟ کیا عوام نے رمضان المبارک کے مہینہ میں مہنگائی کا تذکرہ چھوڑ دیا تھا ؟کیا اشیاء خورد ونوش معیاری دستیاب ہو تی رہی ہیں ؟ کیا شہر میں جگہ جگہ ناجائز تجاوزات ختم ہوگئی ہیں ؟ کیا بازاروں میں سڑک کے بیچ ٹھیلہ ،ریڑھی والے خریداری کوآنے والوں کے لیے درد سر نہیں بنے ہوئے ہیں؟کیا خواتین اور بچے باآسانی بازاروں سے خریداری کر رہے ہیں ؟ کیا ٹریفک روانی سے رواں دواں ہے ؟ کیا ٹریفک کانسٹیبلان نے اس بار عیدی مہم میں حصہ نہیں لے رہے؟کیا میرے شہر میں سیوریج کا نظام بالکل ٹھیک کام کرتا رہا ہے ؟ کیا محلہ علی پور ،محلہ مصطفی پارک اور دیگر علاقوں میں ابلتے گٹر کسی کو نظر نہیں آتے؟مختصر یہ کہ اگر ان سب سوالوں کا جواب ہا ں میں ہے تو پھر دل کھول کر اشتہارات پر اپنی یونین اور گروپ کے عہدیداران کی تصاویر کے ساتھ انتظامی سربراہاں کی تصاویر پرنٹ کروائیں اور عید کے بعدشیلڈز دینے کی بڑی بڑی تقریبات بھی منعقد کروائیں کیا میڈیا کاکام عوام کے حقیقی مسائل سے آگاہی دینا نہیں ہے؟ کیا اپنے ذاتی مفادات کو اجتماعی مفادات پر ترجیح دینا جرنلسٹس کے لیے قابل فخر بات ہے ؟***