منیر نیازی کی غزل کئی دکھوں سے تعمیر ہوئی اس میں محبت کے دکھ بھی ہیں

اور سماجی در د بھی ۔ کہیں کہیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ ان کے ہاں سماج کے بہت سے اندرونی دکھ محبت کے دکھ میں مل گئے ہیں۔ اور یہ دونوں دکھ مل کر کوئی اکائی تشکیل دے رہے ہیں۔

اُس آخری نظر میں عجب درد تھا منیر
جانے کا اس کے رنج مجھے عمر بھر رہا

جانتا ہوں ایک ایسے شخص کو میںبھی منیر
غم سے پتھر ہو گیا لیکن کبھی رویا نہیں

صبح کاذب کی ہوا میں درد تھا کتنا منیر
ریل کی سیٹی بجی تو دل لہو سے بھر گیا

منیر کے ہاں دو الفاظ بہت زیادہ ہیں ایک شہر اور ایک سفر ۔ ایسا لگتا ہے کہ منیر کی غزل کی غزل کا مسافر اندھیرے میں کھو گیا ہے ۔ اور شہر کے سارے مناظر اندھیرے میں کھو گئے ہیں ۔ اس لیے اُن کے ہاں سایے اور دھند کی کیفیت ملتی ہے۔ اُن کے ہاں تنہائی اور خوف کی فضاءموجود ہے۔ جو اُس دور کے نئے ماحول کو ظاہر کرتی ہے۔

ملتی نہیں پناہ ہمیں جس زمین پر
اک حشر اس زمین پہ اٹھا دینا چاہیے

میری ساری زندگی کو بے ثمر اُس نے کیا
عمر میر ی تھی مگر اس کو بسر اُس نے کیا

شہر کو برباد کرکے رکھ دیا اُس نے منیر
شہر پر یہ ظلم میرے نام پر اُس نے کیا