کالم : سانچ
ناکے پر کھڑا سپاہی
تحریر :محمد مظہررشید چوہدری
گزشتہ دنوں لاھور میں فیروز پور روڈ پر ہونے والے بم دھماکہ میں چھبیس سے زائد قیمتی جانوں کا جہاں ضیاع ہوا وہیں ہماری پولیس کے شیر دل 9جوانوں نے بھی شہادت کا مرتبہ حاصل کیا گزشتہ چند برسوں سے وطن عزیز دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے پاک فوج ، پولیس اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں نے نیشنل ایکشن پالان پر عمل درآمد کو یقینی بناتے ہوئے انتہا پسندی کو کافی حد تک کنٹرول کرتے ہوئے وطن عزیز سے انتہا پسندوں کی کاروائیوں کو کافی حد تک کم کر لیا ہے اپریشن ردالفساد بھی انتہائی کامیابی سے جاری ہے دہشت گردی کی کاروائیوں میں کافی حد تک کمی آنے کا سہرا پاک فوج ،پولیس اور سیکورٹی ایجنسیوں کے سر ہے حکومت وقت نے بھی ملک سے دہشت گردی کو ختم کرنے میں اپنی تمام تر توانائیاں صرف کر رکھی ہیں لاہور میں 2004ء کے بعد 40 کے قریب دہشت گردی کے چھوٹے بڑے واقعات ہو چکے ہیں جن میں شہریوں سمیت پولیس کے جوانوں کو بھی دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا محکمہ پولیس کی کارکردگی کو مثالی بنانے کے لیے حکومت اور اعلی حکام نے بے شمار اقدامات کیے ہیں یہ ہی وجہ ہے کہ اب شہروں کی عوام اور پولیس کے درمیان خلیج کم ہوتی نظر آرہی ہے اورعوام کا اعتمادپولیس پر بحال ہو رہا ہے جس کی سب سے بڑی وجہ کھلی کچہریوں کا انعقاد ،ایف آئی آر کا کمپیوٹرائزد ہونا اور دیگر حکومتی اقدامات ہیں آج سانچ کے قارئین کی نظر رائٹر سید بدر سعید کی ایک تحریر پیش ہے ۔جو کہ خاص طور پر ضلعی پولیس کے پی آر او ٹو ڈی پی او خالد محمود اور انکے نائب علی اکبر کے اصرار پر کالم سانچ کی زینت بنا رہا ہوں ۔ناکے پر کھڑا سپاہی !! میں نے ناکے پر کھڑے سپاہی سے سوال کیا۔ سنا ہے بہت کما لیتے ہو ؟ ایک تلخ مسکراہٹ لمحہ بھر کے لئے اس کے چہرے پر آئی اور پھر دم توڑ گئی۔ عجیب سی یاسیت اس کے لہجہ میں در آئی۔ کہنے لگا : صاحب ! میں اپنے باپ کی جگہ بھرتی ہوا ہوں۔ میرا باپ تم لوگوں کی حفاظت کے لئے ناکے پر کھڑا تھا۔ تمہارے جیسے کسی صاحب کے دشمن نے اسی ناکے پر رکنے کی بجائے میرے باپ کو گولیوں سے چھلنی کر دیا تھا۔ اسے تو یہ بھی معلوم نہ تھا کہ اس کے قاتل کون ہیں۔ وہ پہلی بار ان قاتلوں سے ملا تھا۔ یہیں کہیں اسے پہلی گولی لگی اور اس نے بھاگنے کی بجائے ڈاکوؤں کی طرف اپنی پستول کا رخ کر دیا۔ اس جرم کی سزا یہ ملی کہ اس پر پورا برسٹ فائر ہوا۔ اخبار میں ایک خبر اور دو تعزیتی بیان چھپے اور پھر میں اسی ناکے پر آ گیا۔ میرے گھر جانے تک میری ماں اور بیوی یہی سوچتی رہتی ہیں کہ جانے آج بھی زندہ لوٹوں گا یا اپنے باپ کی طرح کسی اجنبی کی گولیوں کا نشانہ بن جاؤں گا۔ میرے بچوں کو خبر نہیں وہ کب یتیم کہلانے لگیں۔۔ سپاہی دم لینے کو رکا اور پھر عجیب سے انداز میں کہنے لگا : صاحب ! پیسے کمانے ہوتے تو اور بھی کئی راستے تھے۔ تم ایک دن اسی جگہ ، اسی ناکے پر کھڑے ہو کر ڈیوٹی دے لو۔ شاید تمہیں خبر نہیں کہ ایک سپاہی دن بھر میں کتنا دھواں اپنے پھیپھروں میں اُتارتا ہے۔ شاید تمہیں اس گرمی اور دھوپ کا اندازہ نہیں ہے۔ تم ٹھنڈی گاڑیوں میں آنے والوں کو تو یہ بھی علم نہیں کہ ہر دو منٹ بعد لوگوں سے بحث کرنے والے کا سر کیسے چکرانے لگتا ہے۔ تم تو عید کی نماز کے بعد بھی ہم پردیسیوں سے گلے ملنا گوارا نہیں کرتے۔ ساری باتیں چھوڑو اور ایک کام کرو۔۔ صرف آدھا دن اس احساس کے ساتھ میری جگہ کھڑے ہو جاؤ کہ کسی بھی لمحے کوئی تمہیں گولی مار دے گا۔ آدھے دن بعد ایک لاکھ بھی ملے تو نہیں رک پاؤ گے۔ صاحب جان سب کو پیاری ہوتی ہے لیکن ہم سپاہیوں کی کہانی الگ ہے۔ ہم اپنے گھر والوں کو اس لئے تنہا چھوڑ آتے ہیں کہ تمہارے گھر والے محفوظ رہیں۔۔سنو ! کچھ سال بعد اسی ناکے پر آنا۔ شاید تب تک میں بھی اپنے باپ کی طرح مارا جا چکا ہوں اور میری جگہ میرا بیٹا بھرتی ہو کر تمہیں اسی ناکے پر ملے۔ یہ کہانی ہر سپاہی کی ہے لیکن چند کالی بھیڑوں کی وجہ سے تم ہم سب پر انگلیاں اٹھاتے ہو۔ اجازت ہو تو اتنا بتاتے جانا ، تم میڈیا والوں میں بھی بلیک میلر ہوتے ہیں۔ کیا میں سبھی کو ایک جیسا کہہ سکتا ہوں۔ تم سے پوچھ سکتا ہوں کہ کتنے پیسے کما لیتے ہو۔ بولو صاحب۔۔۔۔***