خزاں کی رت میں بہاروں کی آس تھی لیکن
یہ پت جھڑوں کے سلاسل نہ ٹوٹنے پائے
کچھ اس طرح سے پڑی ہیں الم کی زنجیریں
کہ لحظہ بھر کے لیے بھی نہ چھوٹنے پائے

خیال تھا کہ خلاؤں میں تیر تے بادل
کبھی تو جھوم کے برسیں گے صحن ویراں میں
افق کی دھند میں لپٹے ہوئے کئی تارے
غبار ہٹتے ہی چمکیں گے اس شبستاں میں

ہر ایک گام مگر وحشتیں ملیں ہم کو
رہے ہمیشہ تعاقب میں کرب کے دھارے
قدم بڑھائیں تو کیسے؟ ہر ایک رستے میں
بچھے ہیں حدنظر تک سلگتے انگارے

یہ آروزوئیں کبھی بھی کنول نہ ہوپائیں
رہے نہ کرب کے دھارے کبھی کسی حد میں
بہت دنوں سے رچی ہے حیات میں تلخی
بہت دنوں سے جگر ہے کٹار کی زد میں

تھپک تھپک کے سلاتے ہیں بے قراری کو
تو ایک چیخ سی اٹھتی ہے سینہ شب سے
شکستہ روح کے سنگ مضمحل بدن لے کر
لٹک رہے ہیں صلیب حیات پہ کب سے

اجڑتے دیکھے ہیں آنکھوں سے آشیاں اپنے
بکھرتے دیکھا ہے اس زندگی کا شیرازہ
ہو ا جو بند مصائب کا ایک باب کبھی
تو کھلتے دیکھا ہے اک اور ایسا دروازہ

کرم کی ایک نظر،کائنات کے والی
وجود اپنے سمیٹیں کہ گھر بچائیں ہم
تری نگاہ سے ہوتا ہے فیصلہ سارا
حیات کا یہ فسانہ کسے سنائیں ہم

زندگی کتنی پریشان ہے ناداروں کی
ظلم کے ہاتھ گریباں سے چمٹ جاتے ہیں

وسعتیں دیکھ کے مرمر کے حسیں بنگلوں کی
اپنی بوسیدہ سی چادر میں سمٹ جاتے ہیں