اعجاز دکھایا ہے کسی دست دعا نے
رخ موڑ لیا آج ادھر رخش صباء نے
جس آگ کے لگنے میں فقط پل ہی لگا تھا
اس آگ کے بجھنے میں لگے کتنے زمانے
یہ سوچ کے میں آج تلک رہ میں پڑا ہوں
ٹوٹا ہوا پندارا تو آئے گا اٹھانے
جو سنگ زنی کرتے رہے مجھ پر ہمیشہ
آئے ہیں مری قبر پہ وہ پھول چڑھانے
جمہور کے پردے میں یہ کیا کھیل رچا ہے
ایوان میں پہنچے ہیں وہی چہرے پرانے
لٹ جاتے ہیں شاہوں کے مفادات اکثر
منسوب جو ہوتے ہیں غریبو ں سے خزانے
انوار وہ احساس سے عاری ہی رہیں گے
محروم جنہیں درد سے رکھا ہے خدا نے