hakumat punjabلاہور: پنجاب حکومت کی گڈ گورننس یا عوام سے دھوکا، منظور نظر لوگوں کو لاکھوں کی تنخواہوں اور مراعات سے نوازا گیا۔ دنیا انویسٹی گیشن ونگ تہلکہ خیز انکشافات منظر پر لے آیا ،خادم اعلیٰ نے خاموشی اختیار کر لی۔

پنجاب میں کمپنیاں بننے سے ملازمین کی تعداد ایک لاکھ 57 ہزار 500 تک پہنچ گئی اور اہداف بھی بڑھ گئے۔ خادم اعلی کے حکم پر بنائی گئیں کمپنیوں پر 150 ارب روپے سے زائد کے فنڈز لگا دیئے گئے جس میں 80 ارب سے زائد کی بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔ شروع میں 6 کمپنیاں بنائی گئیں لیکن پھر اس کی تعداد بڑھ کر 56 ہو گئی، صاف پانی، پارکنگ، سولر پاور، ماڈل بازار جیسی کئی کمپنیاں سفید ہاتھی نکلیں، 8 برس کے دوران من پسندوں کمپنیوں نے ٹھیکے لئے۔

کمپنیوں کے اکائونٹ جنرل پنجاب سے فنانشنل اور پروفارمنس آڈٹ ہی نہیں کروائے جاتے، جن 4 کمپنیوں کے آڈٹ کروائے گئے وہ بھی رپورٹ منظر عام پر نہ لائی جا سکی، جس میں اربوں کی بے ضابطگیاں سامنے آئیں، بعض کمپنیوں نے کام تو کیا لیکن وہ بھی کئی گناہ مہنگا اور خزانے پر بوجھ ڈالا گیا