355596_99518195وزیراعظم نواز شریف کے زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں سیاسی اور عسکری حکام نے بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے اور مسلح افواج کی تیاریوں پر اظہار اطمینان کیا ہے۔

اسلام آباد: وزیراعظم نواز شریف کے زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا جس میں ملک کی اندرونی و بیرونی سیکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں چئیرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف جنرل راشد محمود، آرمی چیف جنرل راحیل شریف سمیت تینوں مسلح افواج کے سربراہان، چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ، داخلہ، دفاع اور خزانہ کے وزرا، ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی ایم او، ڈی جی ایم آئی، مشیر قومی سلامتی، وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے خارجہ امور اور سیکرٹری خارجہ بھی موجود تھے۔ اجلاس میں ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر نے مقبوضہ کشمیر اور کنٹرول لائن کی صورتحال، ڈی جی ملٹری آپریشنز نے لائن آف کنٹرول پر بھارتی جارحیت جب کہ سیکرٹری خارجہ نے وزیر اعظم کے دورہ امریکا و اقوام متحدہ سمیت مقبوضہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لیے کی گئی کوششوں پر بریفنگ دی۔ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں عسکری حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ بھارت کے کسی بھی ایڈونچر کے مقابلہ کیلئے پاک فوج پوری طرح تیار ہے۔ بھارت کا سرجیکل سٹرائیک کا جھوٹا اور بے بنیاد دعویٰ بے نقاب ہو چکا اور لائن آف کنٹرول پر بلا اشتعال فائرنگ کا مؤثر جواب دیا گیا۔ اس موقع پر وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا پاکستان خطے سمیت دنیا میں قیام امن کی کوششیں جاری رکھے گا۔ وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کشمیری عوام حق خود ارادیت کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں ۔ پاکستان اور کشمیر کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستان کشمیریو ں کی ہر فورم پر سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا ہماری امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے ۔ پاکستان کسی ملک یا قوم کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتا اور ہم امن اور مشترکہ بہتری پر یقین رکھتے ہیں۔ پاکستان کی سلامتی اور جغرافیائی سرحدوں کے دفاع کیلئے سیاسی و عسکری قیادت اور پوری قوم متحد ہے۔ قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیہ کے مطابق پوری قوم پاک افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور ملک کا دفاع ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔ پاکستان کو کھوکھلے موقف اور جارحیت سے دھمکایا نہیں جا سکتا۔