یہ سب کچھ جانتے بھی ہیں مگر نادان اب تک ہیں
مئے آشامئے دل کا یہی سامان اب تک ہیں

ارے یہ ظلم تو دیکھو یہ گہری چال تو دیکھو
وہ خودہی قتل کرتے ہیں وہ خود حیران اب تک ہیں

مسل دیں پائے نازش سے وہ کچی کونپلیں جس کی
وہی گلشن نشیمن ہے وہیں مہمان اب تک ہیں

چلے آئے ہو جب سے تم مری گل رنگ دنیا سے
یہ دل ویران، رستے اور نگر سنسان اب تک ہیں

سجائے تھے بہت دن سے جو دل میں واسطے تیرے
نہ دستک ان پہ دی تونے، وہ بند ایوان اب تک ہیں

ہے کیسی سادگی یہ، بھولپن، معصومیت یارو
ہمی سے لے لیا ہم کو مگر انجان اب تک ہیں

ملیں گے پھر یہیں پر ہم کہا تھا ایک دن اس نے
وہی امید زندہ ہے وہی امکان اب تک ہیں

جو تیرے نام سے ہوتے اگر بدنام اچھا تھا
جوتیرا نام نہ آیا تو ہم انجان اب تک ہیں