عہد گم گشتہ کی تصویر دکھاتی کیوں ہو
ایک آوارہ منزل کو ستاتی کیوں ہو

وہ حسیں عہد جو شرمندہ ایفا نہ ہوا
اس حسیں عہد کا مفہوم جتاتی کیوں ہو

زندگی شعلہ بے باک بنا لو اپنی
خود کو خاکستر خاموش بناتی کیوں ہو

میں تصوف کے مراحل کا نہیں ہوں قائل
میری تصویر پہ تم پھول چڑھاتی کیوں ہو

کون کہتا ہے کہ آہیں ہیں مصائب کا علاج
جان لو اپنی عبث روگ لگاتی کیوں ہو

ایک سرکش سے محبت کی تمنا رکھ کر
خود کو آئین کے پھندوں میں پھنساتی کیوں ہو

میں سمجھتا ہوں تقدس کو تمدن کا فریب
تم رسومات کو ایمان بناتی کیوں ہو؟

جب تمہیں مجھ سے زیادہ ہے زمانہ کا خیال
پھر مری یاد میں یوں اشک بہاتی کیوں ہو

تم میں ہمت ہے تو دنیا سے بغاوت کر دو
ورنہ ماں باپ جہاں کہتے ہیں شادی کر لو