یا مجھے افسر شایانہ بنایا نہ ہوتا
یا میرا تاج گدایا نہ بنایا ہوتا

خاکساری کے لیے گرچہ بنایا مجھے
کاش خاکِ درِ جاناں نہ بنایا ہوتا

نشئہ عشق کا گر ظرف دیا مجھ کو
عمر کا تنگ نہ پیمانہ نہ بنایا ہوتا

اپنا دیوانہ بنایا مجھے ہوتا تو نے
کیوں خیراتمند بنایا، نہ بنایا ہوتا

شعلہ حسن چمن میں نہ دکھایا اس نے
ورنہ بلبل کو بھی پروانہ بنایا ہوتا

روز معمور دنیا میں خرابی ہے ظفر
ایسی بستی سے تو ویرانہ بنایا ہوتا