جرمن شہر ہیمبرگ کے ویئر ہاؤس ڈسٹرکٹ ’سپائشر شٹَٹ‘ اور اس سے ملحقہ تاریخی ’ٹریڈنگ ہاؤس ڈسٹرکٹ‘ کو عالمی ورثہ قرار دے دیا گیا ہے۔ یوں عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل جرمن مقامات کی تعداد اب چالیس ہو گئی ہے۔

 

اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کی اہم تاریخی مقامات کو عالمی ثقافتی ورثہ قرار دینے والی کمیٹی کے سالانہ اجلاس میں آج اتوار پانچ جولائی کو شمالی جرمنی کے بندرگاہی شہر کے ان مقامات کو عالمی ورثہ قرار دیا گیا۔ جرمنی کے سابقہ دارالحکومت بون میں جاری اس اجلاس میں مندوبین نے اتفاق کیا کہ یورپ میں یہ بندرگاہی علاقے تاریخی اور سیاسی حوالوں سے انتہائی اہم رہے ہیں۔

یونیسکو کی ورلڈ ہریٹیج کمیٹی نے اپنے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں یہ علاقے بین الاقوامی ترقی اور تجارت میں تیزی لانے کے حوالے سے ایک منفرد علامت رکھتے ہیں۔

ہیمبرگ کا ویئر ہاؤس ڈسٹرکٹ ’سپائشر شٹَٹ‘ 1885ء اور 1927 کے دوران تین مرحلوں میں تعمیر کیا گیا تھا

ہیمبرگ کا ویئر ہاؤس ڈسٹرکٹ ’سپائشر شٹَٹ‘ 1885ء اور 1927 کے دوران تین مرحلوں میں تعمیر کیا گیا تھا۔ وہاں مختلف ویئر ہاؤسز قائم ہیں اور یہ اس مخصوص حوالے سے دنیا کا سب سے بڑا ویئر ہاؤس ڈسٹرکٹ تصور کیا جاتا ہے۔ ’ٹریڈنگ ہاؤس ڈسٹرکٹ‘ بیسویں صدی کے اوائل میں تیار کیا گیا تھا، جہاں صرف دفاتر قائم کیے گئے تھے۔ اس حوالے سے اس مقام کو دفتری امور کے حوالے سے یورپ کا پہلا باضابطہ دفتری علاقہ قرار دیا جاتا ہے۔

اس طرح عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل جرمن مقامات کی تعداد اب چالیس ہو گئی ہے جبکہ جرمنی کے شمالی بندرگاہی شہر کا کوئی حصہ پہلی مرتبہ اس عالمی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ توقع کی جا رہی تھی کہ جرمن شہر ناؤمبرگ کا کیتھیڈرل بھی اس مرتبہ عالمی ورثے کی فہرست میں شامل کر لیا جائے گا لیکن اس سال بھی ایسا نہ ہو سکا۔

دنیا بھر کے 161 ممالک کے ایک ہزار سے زائد مقامات کو عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا جا چکا ہے۔ مختلف براعظموں میں ایسے اہم مقامات کو عالمی ثقافتی ورثہ قرار دینے کا مقصد ایسی جگہوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے علاوہ وہاں سیاحت کو فروغ دینا بھی ہوتا ہے۔

ہیمبرگ کی صوبائی وزیر ثقافت باربرا کیسلر نے اس فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس اعزاز سے ہمیبرگ کو عالمی سطح پر اپنا تشخص مزید بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان علاقوں کو عالمی ورثہ قرار دیے جانے سے ایسے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے، جن کی مدد سے ہیمبرگ ثقافتی حوالوں سے مزید شہرت حاصل کر سکے گا۔

اٹھائیس جون کو بون میں شروع ہونے والی یونیسکو کی ورلڈ ہیریٹج کمیٹی نے ہفتہ چار جولائی کو سنگاپور کے بوٹینیکل گارڈنز کو بھی عالمی ورثہ قرار دے دیا تھا۔ آٹھ جولائی تک جاری رہنے والے اس انتالیسویں اجلاس کے دوران جب یہ فیصلہ سنایا گیا تو اس اجلاس میں شریک سنگاپور کے وفد نے خوشی کے عالم میں نعرے بھی لگائے۔ 156 سال پرانے یہ باغات عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیے جانے والے تیسرے باغات ہیں۔

یونیسکو کی کمیٹی نے اسرائیل کے قدیمی ’بیت الشعاریم‘ نامی علاقے کو بھی عالمی ورثہ قرار دیا ہے۔ زمانہ قبل از مسیح میں تعمیر کردہ یہ مقام یہودی ثقافت میں اس وقت اہمیت اختیار کر گیا تھا، جب سلطنت روما کی طرف سے یہودیوں کی مذہبی اور سماجی قیادت ’سنھدرین‘ کے خاتمے کے بعد یہ قیادت سن 70 عیسوی میں اس مقام پر منتقل کر دی گئی تھی۔

یونیسکو کی کمیٹی نے اسرائیل کے قدیمی ’بیت الشعاریم‘ نامی علاقے کو بھی عالمی ورثہ قرار دیا ہے

اس کے علاوہ عالمی ورثے کی فہرست میں آئرلینڈ کا فورتھ روڈ برج بھی شامل کر لیا گیا ہے۔ یونیسکو نے اس پل کو اپنی نوعیت کا ایک عالمی عجوبہ قرار دیا ہے۔ امریکی ریاست ٹیکساس کے San Antonio Franciscan Missions کو بھی عالمی ورثے کی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے۔

بون میں جاری اس کانفرنس کے دوران یونیسکو کی اہم تاریخی مقامات کو عالمی ورثہ قرار دینے والے کمیٹی یہ جائزہ لے رہی ہے کہ کون کون سے ایسے تاریخی اور قدیمی مقامات ہیں، جن کو عالمی ورثہ قرار دیا جا سکتا ہے اور پہلے سے اس فہرست میں موجود کن مقامات کو اس لسٹ سے خارج کر دیا جانا چاہیے۔