ہر ظلم کو مٹا دو
ہر ظلم کو مٹا دو
رحمت کا اشارا
منزل نے پھر پکار
لوگو قدم بڑھا دو
ہر ظلم کو مٹا دو
ذہنوں کے ارتقاء کی ہر سوچ جل رہی ہے
ہر دل میں وحشتوں کی اک آگ بل رہی ہے
میرے وطن کے بیٹو
اب خاک پر نہ لیٹو
دھرتی فلک بنا دو
ہر ظلم کو مٹا دو
طاغوت کا مقدر تاریک ہو چکا ہے
اب ہر چراغ وقف تحریک ہو چکا ہے
تاروں کی جگمگاہٹ
کلیوں کی مسکراہٹ
ہر ہونٹ پر سجا دو
ہر ظلم کو مٹا دو
بہتے رہے ہمیشہ جھرنے یہ ولولوں کے
اب ختم ہورہے ہیں آزاد فاصلوں کے
آئے گا سبز موسم
بڑھتے چلو یوں پیہم
گرتو ں کو حوصلہ دو
ہر ظلم کو مٹا دو
میدان کربلا سے اٹھتی ہیں پھر صدائیں
آؤ یزیدیت کی دیوار کو گرائیں
ملت کے نوجوانو
قرآن کے پاسبانوں
کچھ کرکے اب دکھا دو
ہرظلم کو مٹا دو
گونجے گا اب عوامی تحریک کا ترانہ
دے گا اسے سلامی اک روز یہ زمانہ
آگے قدم بڑھا کر
اس کا علم اٹھا کر
ہر بام پر سجاد و
ہر ظلم کو مٹا دو
ہے وقت کی ضرورت طاہر کی رہنمائی
منزل کی ہم کو جس نے روشن کرن دکھائی
اس جبر کی فضا میں
اسکی نڈر صدا میں
اپنی صدا ملادو
ہر ظلم کو مٹا دو