امریکا اور متحدہ عرب امارات نے’صواب مرکز‘ کے نام سے ایک مڈ ایسٹ ڈیجیٹل کمیونیکیشن سینٹر قائم کیا ہے۔ یہ منصوبہ انٹرنیٹ پر شدت پسند تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کی تشہیر اور اس کے پیغامات کا توڑ کرنے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔

ابوظہبی میں قائم کیے گئے ’صواب مرکز‘ کے افتتاح کے پہلے روز ہی اس پر انگریزی اور عربی زبان میں یوٹیوب اور ٹوئٹر پر پیغامات دیتے ہوئے لوگوں کو اس کے مقاصد سے آگاہ کیا گیا۔ خصوصی امریکی مندوب اور انسداد دہشت گردی کے امریکی ادارے ’سینٹر فار اسٹریٹیجک کاؤنٹر نیررازم کمیونیکیشنز‘ کے کوآرڈینیٹر راشد حسین نے بتایا کہ اس مرکز میں پندرہ سے بیس افراد کام کر رہے ہیں، جن میں سے زیادہ تر کا تعلق متحدہ عرب امارات سے ہی ہے۔ حسین نے اس منصوبے پر اٹھنے والے اخراجات کی تفصیلات تو نہیں بتائیں لیکن اتنا ضرور کہا کہ اس پر کئی ملین ڈالر کی لاگت آئی ہے اور زیادہ تر مالی بوجھ امارات نے برداشت کیا ہے۔

ٹائم میگزین کے سابق ایڈیٹر اور پبلک افیئرز اور پبلک ڈپلومیسی کے نائب امریکی سیکرٹری رچرڈ اسٹینگل اس مرکز کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے خصوصی طور پر ابوظہبی پہنچے تھے۔

اسٹینگل اور متحدہ عرب امارات کے وزیر اطلاعات انور قرقاش کے ایک مشترکہ بیان کے مطابق ’’یہ مرکز آئی ایس کے خلاف اتحادیوں کی کارروائیوں کو مزید مؤثر بنانے، آئی ایس کے پروپیگنڈے کے اثر کو زائل کرنے اور خطّے میں اعتدال پسندانہ نقطہٴ نظر کے پھیلاؤ میں مددگار ثابت ہو گا۔‘‘

بعد ازاں خبر رساں ادارے اے پی سے باتیں کرتے ہوئے اسٹینگل نے کہا ’’صواب سینٹر اِس تاثر کو ختم کرنے میں بھی ہماری مدد کرے گا کہ مواصلات اور سماجی نیٹ ورکنگ کے شعبے میں آئی ایس ہمیں شکست دے رہا ہے‘‘۔

’اسلامک اسٹیٹ‘ کے حامی شدت پسندی کی جانب راغب کرنے کے لیے سماجی ویب سائٹ پر ہالی وڈ طرز کی تشہیری فلمیں اور اسی طرح کے دیگر پیغامات جاری کرتے ہیں۔ ان کی یہ حکمت عملی کافی حد تک کامیاب بھی رہی ہے اور دنیا بھر سے لوگ آئی ایس میں شامل بھی ہوئے ہیں، جن میں مسلم نوجوان نمایاں ہیں۔

اوباما انتظامیہ نے اپنے عرب ساتھیوں سے آئی ایس کے خلاف انٹرنیٹ پر مزید اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا تھا تاکہ ان کے مضبوط ستون کو کمزور کیا جا سکے۔ صواب مرکز کا قیام عرب خطّے کی جانب سے اوباما کی درخواست پر اب تک کا سب سے بھرپور رد عمل ہے۔

ذرائع کے مطابق اس سینٹر کے قیام کے لیے تین ماہ سے کام جاری تھا اور مختلف شعبوں کو بہتر بنانے کے لیے کوششیں کی جا رہی تھیں۔ ابھی تک اس سینٹر کی کوئی اپنی ویب سائٹ قائم نہیں ہو سکی ہے جبکہ فیس بک پر بھی اس کا خصوصی صفحہ بنایا جائے گا۔ اس کے علاوہ یوٹیوب پر چینل لانچ کرنے میں بھی مزید کچھ ہفتے لگ سکتے ہیں۔