کوٹلی( ثاقب راٹھورFB_IMG_1505850300321 ) یہ تصویر کوٹلی کے محلہ چغتائی کے نوجوان دانش ملک کی ہے۔اس کا قصور یہ ہیکہ اس نے اپنے گھر کے باہر کھڑے اپنے موٹر سائیکل سے پیٹرول نکالتے ایک نوجوان کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا تھا۔اور اسکو پکڑنے کے بعد محلہ میں موجود یوسف میڈیکل سٹور پر لے گیا ۔ جہاں پر راجہ رضوان اور دیگر لوگ بھی موجود تھے کیونکہ خاصے عرصے سے محلے سے پیٹرول چوری کی وارداتیں ہو رہی تھیں جہاں اسکو ہلکی سرزنش کے بعد چھوڑ دیا گیا۔ جسکے بعد دانش اپنے ہی گھر کے دروازے پر اپنے موٹر سائیکل کو درست کر رہا تھا کہ اچانک سے ہی وہ نوجوان کچھ دیگر لڑکوں کے ہمراہ دانش پر حملہ آور ہو گئے ۔ آہنی مکے کے وار سے دانش بری طرح زخمی ہو گیا۔ وہ لڑکا جس کو دانش نے پکڑا تھا وہ گرداور ایوب صاحب کا بیٹا تھا۔ جس کو پولیس نے اہل محلہ کی درخواست پر پابند سلاسل کر دیا۔
یقیناً یہ ایک بہت برا جرم ہے جسمیں ایک طرف ایک بڑے باپ کا بیٹااسطرح سر عام قانون کی دھجیاں اڑا رہا تھا اور دوسری طرف لمحہ فکریہ بھی کہ ہمارے شہر میں سٹریٹ کرائم اسطرح شروع ہو چکے ہیں کہ اپنے گھر کے دروازے پر بھی محفوظ نہیں۔

اب اسی سے جڑا دوسرا واقعہ جب ایوب صاحب نے اپنے بیٹے کی گرفتاری کا سنا تو وہ سیدھے تھانہ سٹی جا پہنچے اس وقت تک ایوب صاحب یہ سمجھ رہے تھے کہ انکے بیٹے کو لڑائی کے کیس میں پکڑا گیا ہے۔ وہ تھانے میں موجود آفیسران اور عملہ سے اپنے تعلقات کے زعم میں الجھ پڑے کہ میرے بیٹوں کو پکڑا ہے تو دوسری پارٹی کیوں نہیں۔۔ جبکہ پولیس ان کو سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی کہ آپ بات تو سنیں معاملہ اور ہے ۔۔۔جب بات زیادہ بڑی تو پولیس نے گرداور صاحب کو گالم گلوچ کرنے پر ذودکوب کیا جس سے ان کی حالت خراب ہو گئی اور ان کو ہسپتال لے جانا پڑا ۔
پولیس کا موقف ہیکہ ان کو دل کادورہ پڑا ہے جبکہ ایسی بات نہیں ہے۔
یہ تھا کوٹلی میں ہونے والا واقعہ جس میں پولیس تھانہ سٹی کے عملے سے جرم سرزد ہوا ہے ۔ اگر ایوب نے تھانے میں جا کر گالم گلوچ کی لڑائی جھگڑا کیا تھا تو ان کے خلاف FIR کاٹ کر ان کو بھی سلاخوں کے پیچھے بیھج دینا چاہیے تھا لیکن یوں کسی کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنانا بھی جرم ہے ۔ اور تھا نہ سٹی نے یہ جرم کیا ہے۔ کیونکہ اگر ایوب نے گالی دیکر قانون توڑا ہے تو قانون نافذ کرنیوالے نے ہاتھ اٹھا کر قانون توڑا ہے۔