کس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنی
جی جلاتی رہی رات بھر چاندنی

ٹمٹماتے رہے حسرتوں کے دیے
مسکراتی رہی رات بھر چاندنی

اک حسیں جسم کی طرح آغوش میں
کسمساتی رہی رات بھر چاندنی

اشک پیتے رہے ہم کسی اور کو
مے پلاتی رہی رات بھر چاندنی