سنی اتحاد کونسل کے سیکریٹری جنرل نظام مصطفی پارٹی کے سربراہ سابق وفاقی وزیر حاجی محمد حنیف طیب نے الانہ مسجد شو مارکیٹ میں احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سرکار دو عالم ﷺ پر مبنی فلم کا ریلیز ہونا دنیا کے امن کو تباہ کرنے کے مترادف ہے ، امریکہ میں اس قسم کے اقدامات اب معمول بن چکے ہیں اور کوئی بھی مسلمان اپنے نبی یا صحابی کے خلاف فلم بنانے کے عمل کو کسی صورت برداشت نہیں کرے گا ۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ اقوام متحدہ کو فوری نوٹس لینا چاہئے ۔ اوآئی سی اور اسلامی ممالک ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کےلئے آواز حق بلند کریں اور اسکی نمائش کو فوری ملتوی کرواکر اسکی کاپیوں کا ضائع کروایا جائے اور مسلمانوں سے معافی مانگی جائے ۔ اور آئندہ اس قسم کی فلم نہ بننے کی یقین دہانی کرائی جائے ۔ اس فلم کے بننے سے دنیا بھر کے مسلمانوں میں شدید اشتعال پیدا ہوا ہے اور اس سے قبل بھی کئی بار اس قسم کے واقعات رونما ہوچکے ہیں اور مسلمانوں کے جذبات کو مسلسل مجروح کرنے کا سلسلہ جاری ہے ۔ جبکہ اتحاد بین المسلمین و بین المذاہب کے دعویدار وں نے ہمیشہ خاموش تماشائی کا کردار ادا کرکے اپنے آ پ مشکوک کردیا ہے۔امریکا ، اسرائیل اور مغربی ممالک اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مذہبی جنگ کی راہ ہموار کررہے ہیں وہ مسلمانوں سے صلیبی جنگوں کی شکست کا بدلہ اور نیو ورلڈ آرڈر کے مذموم مقاصد کی تکمیل اور ٹریڈ ٹاور کی آگ میں جلنے والے اب ان اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئے ہیں جس کی کوئی نظیر نہیں ملتی ۔ مسلم حکمرانوں کی مجرمانہ خاموشی ان کی خاموشی حمایت کی دلیل ہے مسلمان عوام کو طاغوتی قوتوں اور غیرت سے عاری حکمرانوں کے خلاف متحد ہونے کی اشد ضرورت ہے اب وقت آگیا ہے کہ غیرت مند مسلمان امریکا کے خلاف ہر چوک کو تحریر اسکوائر بنادیں اور یہ ثابت کردیں کہ وہ اپنے مذہب اسلام اور محمد خیر الانام ﷺ پر جان تو دے سکتے ہیں مگر ان کی شان میں کوئی گستاخی برداشت نہیں کرسکتے ۔