میں خود ہی بات کرتا ہوں، میں خود سنتا سمجھتا ہوں

میں خود ہی جھینپتا، حیران ہوتا، مسکراتا ہوں

کبھی میرا تکلم مجھ کو ہی بوجھل سا لگتا ہے
کبھی میں بڑبڑاتا، جھنجھلاتا، تلملاتا ہوں

کبھی میری صدائیں مجھ سے ہی ٹکرانے لگتی ہیں
کبھی خود کو ہی خود سے میں بہت انجان پاتا ہوں

کبھی میں کا مخاطب میں، کبھی میں بھی نہیں ہوتا
میں خود سے جیتتا ہوں اور خودسے ہار جاتا ہوں

کبھی یوں بھی تو ہوتا ہے کہ بن بولے ہی باتیں ہوں
کبھی میں سوچتا ہوں، غور کرتا، چپ ہو جاتا ہوں