ڈھونڈتے کیا ہو ان آنکھوں میں کہانی میری
خود میں گُم رہنا تو عادت ہے پرانی میری

بھیڑ میں بھی تمہیں مل جائوں گا آسانی سے
کھویا کھویا ہوا رہنا ہے نشانی میری

میں نے اک بار کہا تھا کہ بہت پیاسا ہوں
تب سے مشہور ہوئی تشنہ دہانی میری

یہی دیوار و دروبام تھے میرے ہم راز
انہی گلیوں میں بھٹکتی تھی جوانی میری

تو بھی اس شہر کا باسی ہے تو دل سے لگ جا
تجھ سے وابستہ ہے اک یاد پرانی میری

کربلا دشت محبت کو بنا رکھا ہے
کیا غزل گوئی ہے کیا مرثیہ خوانی میری

دھیمے لہجے کا سخنور ہوں نہ صہبا ہوں نہ جوش
میں کہاں اور کہاں شعلہ بیانی میری