چین، روس اور دیگر ممالک کے رہنما افغانستان میں ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے بڑھتے اثر و رسوخ اور موجودگی پر تبادلہء خیال کرنے کے لیے یوریشیا کانفرنس میں شریک ہیں۔ بیجنگ اس شدت پسند تنظیم کے حوالے سے شدید تشویش کا شکار ہے۔

چینی صدر شی جن پنگ، روسی صدر ولادیمیر پوٹن اور دیگر رہنما روسی شہر اُوفا میں آج جمعرات سے شروع ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم ایس سی او کے دو روزہ سربراہی اجلاس کے موقع پر افغانستان کی سلامتی صورت حال اور وہاں شدت پسند تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے بڑھتے خطرات سے متعلق بات چیت کر رہے ہیں۔

ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے افغان امور کے ماہر برہان عثمان نے کہا، ’اسلامک اسٹیٹ کی دہشت گردانہ کارروائیوں کے بڑھتے واقعات کے باعث افغان سلامتی کو نئی طرز کے خطرات لاحق ہیں۔‘

چینی نائب وزیرخارجہ چینگ گوپنگ نے صحافیوں سے بات چیت میں کہا، ’شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے رہنما یقینی طور پر افغانستان کے موضوع پر تفصیلی بات چیت کریں گے۔ اس گفتگو میں افغانستان میں سلامتی کی صورت حال کا جائزہ لیا جائے گا۔‘

اسلامک اسٹیٹ نے متعدد ممالک میں اپنا اثرورسوخ پیدا کیا ہے

چین کو تشویش ہے کہ اس کے مغربی صوبے سنکیانگ میں متحرک علیحدگی پسند گروہ ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے ساتھ مل سکتے ہیں۔

شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک چین، روس، قازقستان، کرغیزستان، تاجکستان اور ازبکستان ہیں، جب کہ افغانستان کے پاس مبصر کا درجہ ہے۔

ڈی ڈبلیو سے بات چیت میں افغانستان جائزہ نیٹ ورک نامی ادارے سے وابستہ برہان عثمان نے کہا، ’بیجنگ کو خوف یہ ہے کہ اگر اسلامک اسٹیٹ نے افغانستان میں قدم جما لیے تو اس سے چینی مفادات کو خطرات لاحق ہو جائیں گے۔ طالبان سے چینی حکومت ویسا خطرہ محسوس نہیں کرتی۔‘