سنتےہیں پھر چھپ چھپ انکے گھر میں آتےجاتے ہو
انشا صاحب ناحق جی کو وحشت میں الجھاتے ہو

دل کی بات چھپانی مشکل، لیکن خوب چھپاتے ہو
بن میں دانا، شہر کے اندر دیوانے کہلاتے ہو

بے کل بے کل رہتے ہو، پر محفل کے آداب کے ساتھ
آنکھ چراکر دیکھ بھی لیتے ہو، بھولےبھی بن جاتے ہو

پیت میں ایسے لاکھ جتن ہیں، لیکن اک دن سب ناکام
آپ جہاں میں رسوا ہو گے، وعظ ہمیں فرماتے ہو

ہم سے نام جنوں کا قائم، ہم سے دشت کی آبادی
ہم سے درد کا شکوہ کرتے؟ ہم کو زخم دکھاتے ہو؟