گذشتہ روز دن ۲ بجے سے رات گئے تک ضلع حویلی فاروڈ کہوٹہ کے نیزہ پیر، ہلاں اور چڑیکوٹ سیکٹر میں بھارتی فوج کی طرف سے بڑی گنوں سے شدید گولہ باری ہوتی رہی۔ فتح پور گاؤں میں متحد مکانات کو شدید نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ واضح رہے کہ اسی گاؤں میں چند روز قبل استادِ متحرم شیخ مشتاق صاحب کے گھر پر گولہ لگنے سے ان کے جواں سالہ دو بیٹے اور ایک بیٹی شہید ہو گئے تھے۔ فاروڈ کہوٹہ شہر کے بالکل ساتھ بہتے نالہ میں بھی گولے لگے۔ گولوں کی شدید آواز سے زمین تھرتھرتی رہی۔دو روز قبل کی گولہ باری سے گیرنی گاؤں کے چار خواتین سمیت چھ لوگ زخمی ہو گئے تھے۔ پونچھ عباس پور کی لائن آف کنڑول پر بھی ایسے ہی کل دن سے گولہ باری ہوتی رہی ہے۔تاہم گذشتہ دن اور رات کی گولہ باری سے ابھی تک کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ پاک فوج لائن آف کنٹرول پر سیسہ پلائی کی دیوار کی ماند کھڑی ہے۔ اور بھارتی سورماؤں کو منہ توڑ جواب دے رہی ہے۔ بھارت کی جانب سے سول آبادی پر گولہ باری اس کی انتہائی بزدلانہ کاروائی ہے۔ کشمیریوں پر ظلم و ستم کی انتہا ہو چکی ہے۔ انشااللہ لاکھوں کشمیریوں کا خون ضرور رنگ لائے گا اور کشمیر جلد آزاد ہو گا۔ پاکستان کو بھی چاہیے کہ اپنی خارجہ پالیسی کو موثر بناتے ہوئے کشمیر کے مسلے کو دنیا کے سامنے اٹھائے۔ ملک کے نااہل حکمرانوں نے مسلہ کشمیر کو اپنی ناقص خارجہ پالیسی کی وجہ سے بہت نقصان پہنچایا ہے۔ بہر حال کشمیری اب جاگ چکے ہیں اور جس جرات و بہادری سے انہوں نے لڑنا شروع کیا ہوا ہے تو بہت جلد بھارت کشمیر کو چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہو جائے گا۔ انشااللہ
رپورٹ:۔ شاہد اقبال راٹھور