ہنوور جرمنی (پ ر) گز شتہ اتوارPakistanies Educational and Cultural Engagement) PEACE   کو  ہانوفر کی جانب سے مہاجرین اور پاکستانی کمیونٹی کے نوجوانوں کے بہتر مستقبل کے سلسلے میں محترم احتشام بٹ صاحب کی دعوت پر لانگن ہاگن اجلاس ہوا ۔ جس میں  پیس ہنوور کی طرف سے ندیم کوثر اور عمرکمال خٹک جبکہ مسلم لیگ جرمنی کے نائب  صدر مرزا مسود بیگ ، واجد بٹ ، محمد عزیز اور مسلم لیگ یوتھ ونگ جرمنی کے صدر سہیل ناصر نے نوجوانوں سے خطاب کیا اور ان کے مسائل سنے ۔ اس پروگرام میں نوجوانوں کی کثیر تعداد نے حصہ لیا ۔
محترم ندیم کوثر صاحب نے نوجوانوں کو Peace ہنوور کے اغراض مقاصد اور کمیونٹی میں اس کی اشد ضرورت پر روشنی ڈالی اور اپنی 3 سالہ کمیونٹی کے لئے محنت ، جدوجہد اور ان کے ثمرات پر روشنی ڈالی ۔ یہ کہ پیس ہنوور نے پچھلے تین سالوں میں بیسیوں نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کئے اور ان کو جرمن کمیونٹی میں Integrate ہونے میں مدد کی ۔ جس میں گرین سپورٹس کی کرکٹ کی بحالی کی کاوشوں پر بھی نوجوانوں کو خراج تحسین پیش کیا یاد رہے کہ گرین سپورٹس Peace ہانوفر کا سپورٹس ونگ ھے جو جرمن ینگسٹرز اور مہاجرین کے لئے کھیل کے مواقع پیدا کرتا ھے ۔
محترم ندیم کوثر صاحب نے لانگن ہاگن اور ہنوور شہر سے اپنے میٹنگز کی تفصیلات سے آگاہ کیا اور Peace کے پراجیکٹس کے بارے نوجوانوں کو اعتماد میں لیا ۔
ہنوور پیس اور بزنس کمیونٹی کے روح روان عمرکمال خٹک نے نوجوانوں کو مختلف پیچیدگیوں اور ان کے حل پر روشنی ڈالی اور پیس ہانوفر اور گرین سپورٹس کے لئے اپنی پوری سپورٹ کی یقین دہانی کرائی ۔ یہ کہ پیس کا پیغام محبت ، امن اور دوستی کا ھے ۔ خواہ آپ کسی بھی رنگ نسل یا ملک سے ہوں ، آپ جو بھی زبان بولتے ہوں ، آپ کا جو بھی مذہب یا عقیدہ ھے ہم آپ کے ساتھ آپ کی مشکلات میں ہمہ تن کھڑے ہونگے ۔ یہ کہ ہماری جنگ نفرت اور اقراباء پروری سے ۔ ہماری جستجو معیاری تعلیم و تربیت اور کمیونٹی کو ایک دفعہ پھر ایک پلیٹ فارم پر لانے کی ھے ۔ یہ بھی کہ کچھ غیر ضروی باتوں نے پاکستانی کمیونٹی کو پہلے ہی بہت تقسیم کیا ھے اور آج کے نوجوان کے درمیان ایک دوسرے سے دوریاں ہی پیدا کی ہیں۔ اب انشاءاللہ ایسا مزید نہیں ہونے دیا جائے گا ۔ ہم نے اب آنکھیں کھولنی ہونگیں اور پاکستانیوں کے بہتر مستقبل پر وقت لگانا ہوگا ۔ یہ کوئ ایک شخص کبھی نہیں کرسکتا بلکہ ہر شخص نے اپنا حصہ اس کارخیر میں ڈالنا ہوگا ۔ ہمیں پیسہ نہیں بلکہ آپ کا وقت اور خلوص چاہیئے جو نوجوانوں کی اس کثیر تعداد نے آج دوبارہ ثابت کردیا ھے ۔
مسلم لیگ جرمنی کے صدر نائب جناب مرزا مسعود بیگ نے پاکستان ایمبیسی کا پیغام نوجوانوں کو سنایا، ان کو یک جہتی اور آپس میں اچھے تعلق کی ضرورت پر روشن ڈالی ۔ یہ کہ پاکستان ایمبیسی آپ کے شانہ بشانہ کھڑی ھے اور آپ کے مسائل prioity پر حل کئے جائیں گے ۔ انہوں نے پاکستانی اور افغان کمیونٹی کو ایک درخت کے پھولوں سے تشبیہ دی ۔ یہ کہ ہم سے جو کچھ ہوتا ھے ہم سب کے لئے کرتے ہیں اور کریں گے ۔ جس نوجوان کو جو بھی مسئلہ وہ ہم سے ضرور شیئر کریں ہم اس کو اچھا مشورہ دیں گے اور اگر ممکن ہوا تو ضرور حل کریں گے ۔
محترم عزیز صاحب نے نوجوانوں کو جرمن زبان کو سیکھنے پر زور دیا ۔ جبکہ محترم واجد بٹ صاحب نے سب نوجوانوں کو خوش قسمت کہا کہ آپ لوگوں کو پیس ہانوفر جیسی متحرک تنظیم ملی ھے ۔ کیونکہ جب ہم آپ کی طرح آئے تھے تو اس وقت ایسا کچھ بھی نہیں تھا ۔
آخر میں محترم سہیل صاحب نے مختصر خطاب میں جرمنی کے مسلم لیگ یوتھ ونگ کی جانب سے بھرپور سپورٹ کی یقین دہانی کرائی اور نوجوانوں کو تعلیم اور پرفشنلزم کی تربیت پر زور دیا ۔ اور یہ بھی کہ جب آپ ہماری جگہ ہوں تو آپ لوگوں نے بھی دوسروں  کے لئے پیس کا کارکن بننا ھے ۔ انسانیت کی خدمت کرنی ھے اور محبت کا پیغام بننا ھے ۔
اس کے بعد محترم احتشام بٹ صاحب اور دوسرے نوجوانوں کی طرف سے طعام کا بندوبست تھا اور آخر میں سوال و جواب کی نشست ہوئ ۔ جس کو سب نوجوانوں نے دل کھول کر تعریف کی اور معزیزین کو اپنے تائید کی یقین دہانی کرائی ۔ یہ کہ جرمنی میں ان کے ساتھ کوئ اس طرح بیٹھ کر مسائل ان کے دروازوں پر آکر سنے گا، ایک ناممکن سی بات لگتی تھی ۔ کیونکہ ہانوفر کی پاکستانی کمیونٹی کے لئے موجودہ حالات میں شاید بہت مشکل ہو ۔ یہ بھی کہ پاکستانی کمیونٹی کو آپس کے اختلافات کو بھول کر Peace کی تحریک پر لبیک کہنا ہوگا کیونکہ یہی وقت کی عین ضرورت ھے ۔