359608_63394199ڈہرکی:  ڈہرکی میں ایک بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے کہا کہ کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ موت تک ملک کے حکمران بنے رہیں۔ بلاول بھٹو نے ڈہرکی کی مقامی ہندو برادری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ دیوالی کے تہوار پر آپ کی خوشی میں شریک ہونا چاہتا تھا، مودی کو بتانا چاہتا تھا کہ پاکساتن میں مسلمان یا غیرمسلم سب ایک ہیں۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ یہ ہم سب کا ملک ہے، ہم موہنجودڑو کے وارث ہیں، ہم جناح کے پیروکار ہیں، باب الاسلام کے رہنے والے ہیں، ہم لوگوں کو تقسیم نہیں کرتے، ہم رنگ و نسل، زبان اور جنس کی بنیاد پر تفریق نہں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ یہ جناح اور بھٹو کا بے نظیر پاکستان ہے۔ بلاول نے کہا کہ یکم نومبر کو شہید بھگت کنور رام کی برسی تھی، شہید کنور رام نے اپنی شاعری سے انسانیت کا پیغام پھیلایا، اس صوفی کو اس وقت کے دہشتگردوں نے قتل کیا تھا، میں آج اس جگہ کھڑے ہو کر شہید کنور رام کو سلام پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ شہید کنور رام غریب پرور انسان تھے، مسلمان اور غیرمسلم ان کی یکساں عزت کرتے ہیں۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ پسے ہوئے طبقات کے لئے جدوجہد کی ہے، ہماری جدوجہد دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرنے کے لئے ہے، ہماری جدوجہد اسلام کے پیغام امن کیلئے ہے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ کوئٹہ سب سے زیادہ دہشتگردی کی لپیٹ میں ہے جہاں اس ملک کے قانون دانوں کو بےدردی سے قتل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ دوسری بار کوئٹہ میں پولیس سینٹر پر حملہ کر کے قانون نافذ کرنے والوں کو شہید کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگرد ہمارے بچوں، بھائیوں اور ماؤں کو مار رہے ہیں اور حکومت صرف فوٹو سیشن کروا رہی ہے، ایک مذمتی بیان کے بعد خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے، چند دن بعد بھلا دیا جاتا ہے اور کوئی تحقیقات نہیں ہوتیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگرد حملوں کے بعد عوام کو پتہ ہی نہیں لگتا کہ دہشتگرد کہاں سے آئے تھے اور ان کے سہولت کار کون تھے اور پھر ایک اور سانحے کا انتظار کیا جاتا ہے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ دہشتگردی کے جن سے لڑنے کے لئے پوری قوم کو متحد اور متفق ہونا ہے، اس حکومت میں دہشتگردی سے لڑنے کی اہلیت ہے اور نہ نیت۔ انہوں نے کہا کہ حکمران ابھی تک اچھے اور برے کی پالیسی سے باہر نہیں نکل سکی۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری احتساب کا مطالبہ کرتا ہوں تاکہ ہم وزیر داخلہ اور چودھری نثار کا احتساب کر سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میاں صاحب اپنی ناک سے آگے نہیں دیکھتے، میاں صاحب یہ ملک ہے، کاروبار نہیں، یہ عوام ہیں، بیچنے اور خریدنے کا مال نہیں۔ انہوں نے کہا کہ میاں صاحب آپ وزیر اعظم ہیں، بادشاہ نہیں، لوگ غریب سے غریب تر ہو رہے ہیں، یہ جمہوریت ہے، تخت رائیونڈ کی بادشاہت نہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ میاں صاحب دولت کے انبار لگاتے جا رہے ہیں، کہتے ہیں میں اور میرا چاچا عمران یہ الزام نہیں لگا رہے، یہ تو پاناما پیپرز کہہ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاناما دنیا کا سب سے بڑا سکینڈل ہے۔ بلاول نے میاں صاحب کو یاد دلایا کہ آپ نے خود کہا تھا کہ احتساب آپ سے شروع ہونا چاہئے۔ انہوں نے وزیر اعظم سے شکوہ کیا کہ میاں صاحب آپ نے کبھی بھی کود پر لگے الزامات کا جواب نہیں دیا۔ بلاول نے کہا کہ سستی روٹی، دانش اسکول، ماڈل ٹاؤن کیس، نندی پور یا پانام سکینڈل میں سے کسی کا بھی حکومت کی جانب سے جواب نہیں دیا گیا۔ بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ خبردار کر رہا ہوں، جوڈیشل کمیشن نہ بنا تو آپ کی حکومت بھی نہیں چلے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہر طبقے اور علاقے کو ترقی کے یکساں مواقع ملنے چاہیں، بڑے منصوبے غیرمتنازع ہونے چاہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر گوادر پورٹ کے لوگوں کے لئے پینے کا پانی نہیں تو پھر اس پورٹ کا کیا فائدہ؟ ان کا کہنا تھا کہ لاہور کی ایک ٹرین کی لاگت 200 ارب ہے جبکہ پورے کراچی کے لئے وفاق نے صرف 12 ارب روپے مختص کئے ہیں۔ بلاول نے یہ بھی کہا کہ ملتان میں میٹرو بن رہی ہے لیکن راجن پور میں ایک سپتال تک نہیں ہے۔ بلاول بھٹو نے میاں صاحب سے سوال کیا کہ آپ نے کبھی تھر کے بارے میں سوچا جہاں قحط ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میاں صاحب آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا لیکن آپ نے ایک ٹکہ تھر پر خرچ نہیں کیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ وفاق کمزور ہو گا تو ملک کا اتحاد ختم ہو جائے گا، ایک علاقے میں ترقی اور دوسرے میں بدحالی سے وفاق کمزور ہو گا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ میاں صاحب کی وجہ سے سی پیک کے بارے میں غلط تاثر بن رہا ہے۔ انہوں نے سابق صدر زرداری کی سی پیک سے متعلق اے پی سی کے فیصلوں پر عمل کی ضرورت پر زور دیا۔ بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری پر روز گولے برس رہے ہیں، بے گناہ شہری شہید کئے جا رہے ہیں، پاکستان کے مشرقی و مغربی محاذ گرم ہوتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ میاں صاحب کشمیر پر بین الاقوامی حمایت لینے میں ناکام رہے ہیں، ان کی وجہ سے پاکستان تنہائی کا شکار ہو رہا ہے۔ انہوں نے فوری طور پر وزیر خارجہ لگانے کا مطالبہ بھی دوہرایا۔ انہوں نے کہا کہ میاں صاحب آپ کی وجہ سے مودی اسلامی ممالک میں جلسے کرتا اور بڑے اعزازات سے نوازا جاتا ہے، آپ کی وجہ سے دنیا میں کشمیر پر پاکستانی مؤقف کو نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا 3 مرتبہ وزیر اعظم رہنے والے کو 3 سال میں ایک بھی وزیر خارجہ نہیں ملا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کالعدم تنظیمیں پولیس کے سائے میں اسلام آباد میں جلسہ کرتی ہیں اور سیاسی جماعتوں کو جلسہ کرنے کی اجازت نہیں۔ وزیر اعظم کے بعد کپتان کو ہدف تنقید بناتے ہوئے بلاول بولے، دوسری طرف میرا چاچا عمران ہے۔ انہوں نے کپتان کو مخاطب کرکے کہا چاچا عمران! بہت ہو چکا، میں نے اور عوام نے بہت برداشت کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چاچا عمران روزانہ سٹیج پر کھڑے ہو کر جھوٹے الزامات لگاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چاچا عمران میرے والد کے لئے تو بات کرتے ہیں، ذرا لوگوں کو اپنے باپ اکرام اللہ نیازی کا بھی تو تعارف کروائیں، لوگوں کو بتائیں کہ استاد حمید گل اور آپ نے شہید محترمہ کے خلاف سازش کروائی تھی۔ بلاول نے کپتان کو مخاطب کرکے کہا، چاچا! لوگوں کو بتائیں انکل پاشا نے آپ کی کتنی مدد کی؟ بلاول نے یہ بھی کہہ دیا کہ تحریک انصاف میں مائنس ون ہوا تو اس کے نئے سربراہ شیخ رشید ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ شیخ رشید عمران خان سے بہتر ہی کام کرے گا۔ دریں اثناء، بلاول سٹیج پر روشنی کا مناسب انتظام نہ ہونے پر انتظامیہ سے ناراض ہو گئے، بولے یہ جلسے کا کیسا انتظام ہے