ٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دے
میرے مولا میرے دریا کو روانی دے دے

آج کے دن کریں تجدید وفا دھرتی سے
پھر وہی صبح وہی شام سہانی دے دے

تیری مٹی سے مرا بھی تو خمیر اٹھا ہے
میری دھرتی تو مجھے میری کہانی دے دے

وہ محبت جسے ہم بھول چکے برسوں سے !
اس کی خوشبو ہی بطور ایک نشانی دے دے

تپتے صحرائوں پہ ہو لطف و کرم کی بارش
خشک چشموں کے کناروں کو بھی پانی دے دے

دیدئہ دل جسے اب یاد کیا کرتے ہیں !
وہی چہرہ وہی آنکھیں وہ جوانی دے دے

جس کی چاہت میں حسن آنکھیں بچھی جاتی ہیں
میری آنکھوں کو وہی لعل یمانی دے دے