اسلام آباد،نئی دہلی(نمائندہ ،ایجنسیاں)بھارتی حکومت پاکستان کے ساتھ بات چیت کے اعلان سے مکر گئی،27ستمبر کو نیویارک میں ہونیوالی وزرائے خارجہ کی ملاقات منسوخ ہوگئی،مودی سرکار کی ہٹ دھرمی کے باعث کشیدگی میں اضافہ ہوگیا،بھارتی آرمی چیف دھمکیوں پر اترآئے ،وزیراعظم عمران خان نے ملاقات کی منسوخی سے متعلق بھارت کے منفی اور متکبرانہ کردار پر افسوس کا اظہار کیا ہے ،انہوں نے کہا کہ میں نے چھوٹے لوگوں کو بڑے عہدوں پرقابض دیکھا ہے ،یہ لوگ بصارت سے عاری اور دوراندیشی سے یکسر محروم ہوتے ہیں۔ ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ امن کے حامی ہیں مگر جنگ کیلئے تیار ہیں۔کسی بھی مہم جوئی کا بھرپور جواب دینگے ،امن خراب نہیں کرنے دینگے ،اگر ایسا وقت آیا کہ کسی نے ہمارے صبر کا امتحان لینا چاہا تو قوم کو مایوس نہیں کریں گے ۔ہفتہ کو علی الصبح اپنے ٹویٹ میں ملاقات منسوخ کرنے کے بھارتی اقدام پر ردعمل دیتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہاکہ مذکرات کی بحالی کی میری دعوت کے جواب میں بھارت کا منفی اور متکبر رویہ باعث افسوس ہے ۔انہوں نے کہا کہ اپنی پوری زندگی میں میں نے چھوٹے لوگوں کو بڑے بڑے عہدوں پر قابض ہوتے دیکھا ہے ۔ یہ لوگ بصارت سے عاری اور دوراندیشی سے یکسر محروم ہوتے ہیں۔بھارتی اقدام پر اپنے ردعمل میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزرائے خارجہ ملاقات سے پیچھے ہٹنے کا بھارتی فیصلہ بھارت میں ہونے والے آئندہ عام انتخابات کے موقع پر اندرونی سیاسی دباؤ کا نتیجہ ہے ، جمعہ کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس سے بھارت کے اندر تقسیم نظر آ رہی ہے ۔ جہاں ایک گروپ مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا خواہاں ہے جبکہ دوسرا سیاسی دباؤ کے باعث ان مذاکرات کی مخالفت کر رہا ہے ۔ پاکستان کا موقف مثبت تھا کیونکہ پاکستان بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر بنا کر خطے اور عوام کی بہتری پر توجہ مرکوز کرنے کا خواہاں ہے ۔ اگر بھارت رضامند نہیں ہے تو ہم کوئی غیرضروری جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کریں گے ۔مذاکرات ہوں گے تو باوقار اور باعزت طریقے سے ہوں گے ۔اب بھی کہتے ہیں بھارت ایک قدم بڑھائے ہم دو قدم آگے بڑھائیں گے ،اس سارے معاملے میں جس طرح سفارتی آداب کو روندا گیا، اس کی مثال نہیں ملتی ۔ کلبھوشن کے معاملے پر ہمارا موقف واضح ہے اور ہمارے پاس ٹھوس شواہد بھی ہیں۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں 29 ستمبر کو عالمی برادری کے سامنے پاکستان کا موقف پیش کیا جائے گا۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کبھی کسی کو اپنی اندرونی صورتحال کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا بلکہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل کرتے ہوئے سکیورٹی فورسز کی کوششوں سے کامیابی سے دہشت گردی کو شکست دی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے دباؤ ڈالنے کے حربے ناکام رہے ہیں اور اس سے خطے کے عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا جو لاکھوں کی تعداد میں غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ ملاقات کی منسوخی کے بھارتی فیصلے پر سخت مایوسی ہوئی، منسوخی کے لئے نام نہاد بہانے تراشے گئے اور پاکستان کیخلاف بے جا الزام تراشی کی گئی۔بھارت کی جانب سے بیان کی گئی وجہ سمجھ سے بالاتر ہے ۔امن کا ایک اور موقع ضائع کر دیا۔ وزیراعظم عمران خان کے خلاف بھارتی وزارت خارجہ کا بیان افسوس ناک ہے اور مہذب روایات و سفارتی آداب کے منافی ہے ۔بھارتی سکیورٹی فورسز کے جوان کی مبینہ ہلاکت ملاقات کے فیصلے سے 2 روز قبل ہوئی۔ پاکستان رینجرز نے بی ایس ایف کو سرکاری سطح پر آگاہ کر دیا تھا کہ فوجی کی ہلاکت میں ان کا ہاتھ نہیں۔ رینجرز نے بھارتی فوجی کی لاش تلاش کرنے میں بی ایس ایف کی مدد کی تھی۔ ان حقائق سے بھارتی حکام اور میڈیا بخوبی آگاہ تھا اسکے باوجود پاکستان کے خلاف منفی اور من گھڑت پراپیگنڈا کیا گیا۔پاکستان سچ جاننے کے لیے مشترکہ تحقیقات کیلئے تیار ہے ۔ دہشت گردی کا راگ الاپنے سے بھارت مقبوضہ کشمیر میں اپنے جرائم نہیں چھپا سکتا۔ترجمان نے کہا کہ بھارت جن ڈاک ٹکٹوں کا ذکر کر رہا ہے وہ 25 جولائی سے پہلے جاری ہوئے ۔ ڈاک ٹکٹوں کے ذریعے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کیا گیا۔بھارتی آرمی چیف بپن راوت کی دھمکیوں کے حوالے سے  خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہاکہ ہماری امن کی خواہش کو کمزور ی نہ سمجھاجائے ، پاکستان ایٹمی قوت ہے ،کسی بھی قسم کی مہم جوئی کی گئی توجواب کے لیے تیار ہیں،انہوں نے کہاکہ بھارتی آرمی چیف کا بیان غیر ذمہ دارانہ ہے ،بپن راوت سمجھ لیں امن کو خراب نہیں کرنا چاہیے ،بھارتی فوج اپنی ملکی سیاست میں گھری ہوئی ہے ،توجہ ہٹانے کیلئے جنگ کی طرف رخ موڑرہی ہے ،ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پچھلی دو دہائیوں میں ہمارے خطے میں کیا حالات رہے ہیں ،ہمیں پراکسیز کے ذریعے دہشت گردی کا شکار بنایا گیا۔میجر جنرل آصف غفور نے کہاکہ پاکستان کی مسلح افواج وہ واحد افواج ہیں، جنہوں نے دہشت گردی کی اس جنگ کا کامیابی سے مقابلہ کیا،خطے میں دہشت گردی کے خطرے کو ختم کیا۔ہماری افواج نے نہ صرف اپنے ملک میں امن قائم کیا بلکہ ملک سے باہر خطے میں امن کوششوں کو سپورٹ کیا،اب ہمارا خطہ امن کی طرف مثبت پیش قدمی کر رہا ہے ۔دنیا کے حالات بدل رہے ہیں ایک زمانے میں صرف جیو پالیٹکس تھی۔پھر جیو اکانومی آئی اس وقت پولیٹیکل اکانومی کا دور ہے ہمیں سب کے ساتھ رابطے میں رہنا ہوتا ہے ۔پاکستان اس وقت ایسی پوزیشن میں ہے کہ پوری دنیا کے ساتھ مثبت طور پر رابطے میں ہے ۔حکومت پاکستان کو ہم اپناانپٹ((input دے رہے ہیں، ہم نے سب کے ساتھ مل کر چلنا ہے دنیا کو امن کی طرف لے کر جانا ہے ۔دنیا میں نئی گروہ بندی ہورہی ہے ، بہت سے ملکوں سے پاکستان کے تعلقات بہتری کی طرف جا رہے ہیں ۔دنیا کے ملکوں سے ہماری بات چیت ہورہی ہے ۔یہ جو تاثر تھا کہ پاکستان مسئلے کا حصہ ہے اب پاکستان مسئلے کے حل کا حصہ بن گیاہے ، ہم منفی سے مثبت تاثر کی جانب بڑھ رہے ہیں ۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ دوسری طرف اگر بھارت کی جانب دیکھیں تو اس کو مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کے احیا کا سامنا ہے ، وہ کہتے تھے مقبوضہ کشمیر میں عسکریت پسندی ہے لیکن وہ ایک سیاسی تحریک ہے جسے وہ دبا نہیں پا رہے ،اس کے علاوہ بھارت کی موجودہ حکومت کو اپوزیشن کی جانب سے کرپشن کے بہت سے الزامات کا سامنا ہے ۔ان تمام چیزوں سے رخ موڑنے کے لئے وہ یہ ماحول پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جس میں پاکستان دشمنی کا بیانیہ آئے ۔پاکستان نے چونکہ پچھلی دو دہائیوں میں امن قائم کیا ہے ۔ہمیں پتہ ہے کہ امن کی قیمت کیا ہے ،ہم امن پسندی کو آگے لے کر چلنا چاہتے ہیں اسی تناظر میں نئے وزیر اعظم نے بھی بھارت کو امن کی پیشکش کی جس کو انہوں نے قبول بھی کیا لیکن اس کو قبول کرنے کے بعد اپنے سپاہی کی بے حرمتی کا الزام لگایاجس کو ہم نے مسترد کیاہے ۔ہم ایک پروفیشنل فوج ہیں،ہم کسی بھی سپاہی کی بے حرمتی نہیں کرسکتے خواہ وہ دشمن ملک کا ہو یا کوئی بھی ہو،بھارتی آرمی چیف کا بیان غیر ذمہ دارانہ ہے ہم امن کی طرف جانا چاہتے ہیں لیکن ہمارے اس موقف کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے ،جنگ اس وقت ہوتی ہے جب آپ جنگ کے لئے تیار نہ ہوں ۔پاکستان ایک امن پسند ملک ہے ۔ہم ایٹمی طاقت ہیں ،پہلے بھی اس پر بات ہوئی تھی کہ ہم جنگ کے لئے تیار ہیں، امن کا راستہ پاکستان ، ہمسایہ ملکوں اور خطے کے مفاد میں ہے ،ہم امن کے راستے کی طرف چلنا چاہتے ہیں ۔بھارت اور بھارتی آرمی چیف کو اس بات کو سمجھنا چاہیے کہ امن کو خراب نہیں کرنا،ہم نے امن کو آگے لے کر جانا ہے ،امن رہے گا تو پاکستان بھی ترقی کرے گا،بھارت بھی ترقی کرے گا،خطے میں بھی ترقی ہوگی اس صورتحال کو بگاڑنے کے بجائے ہمیں امن کی طرف بڑھنا چاہیے ،انہوں نے کہاکہ کسی کی امن کی خواہش کو کمزوری نہیں سمجھنا چاہیے ، اگر ترقی کا علاج جنگ ہوتی تو ہر بندہ جنگ کر کے ترقی کر لیتالیکن جنگ کی پوری تیاری کے ساتھ ہم دنیا کے لئے مثبت طور پر اہم ہیں ،اس امن کو خراب نہیں ہونے دیں گے اگر ایسا وقت آیا کہ کسی نے ہماراامتحان لینا چاہا تو ہم قوم کو بھی مایوس نہیں کریں گے اور اس کا بھرپور جواب دیں گے ۔انہوں نے کہا کہ جہاں تک پوسٹل ٹکٹ کاتعلق ہے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن نے ایک رپورٹ شائع کی ہے اس کے شائع ہونے کے بعد پاکستان میں اس وقت کی عبوری حکومت میں یہ ٹکٹیں جاری ہوئیں۔ٹکٹوں کا بہانہ بنایا جا رہا ہے کہ اس کی وجہ سے امن خراب ہو گیا ، مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی جدوجہد چل رہی ہے یہ ایک سیاسی تحریک ہے برہان وانی اور اب تک کی جانے والی جدوجہد سیاسی تحریک ہے ۔آزادی کشمیر کی تحریک کشمیری قوم کی تیسری نسل کے ڈی این اے میں داخل ہوچکی ہے اس سے کوئی آنکھیں بند نہیں کرسکتانہ ہی بھارت اس کو دباسکتا ہے ۔میجر جنرل آصف غفور نے کہاکہ بھارت مذاکرات کی میز پر آئے ، ہم نے پہلے بھی بات چیت کی آفر کی ہے ۔ بھارت مذاکرات کی میز سے بھاگا ہے پاکستان نہیں بھاگا۔حکومت پاکستان کی آج بھی آفر ہے کہ مذاکرات کی میز پر آئیں اور بات چیت کریں۔ اقوام متحدہ میں ایک موقع ملا تھا بھارت نے 24گھنٹوں کے اندر اسے منسوخ کر دیا۔انہوں نے کہاکہ حالات کو دیکھیں کہ خطہ کس دور سے گزر رہاہے ،ہم نے خطے میں امن قائم کیا ہے ۔ہم اس امن کو خراب نہیں ہونے دیں گے ،بھارت نے گزشتہ سال 9اپریل کو سرجیکل سٹرائیک کا ڈھونگ رچایا تھاجس کا ثبوت وہ اپنی پارلیمنٹ کو بھی نہیں دے سکے ۔ اگر ان کے پاس کوئی سرجیکل سٹرائیک کا ثبوت تھا تو اپنی پارلیمنٹ کو دیتے خود ان کے ملک کے لوگ ان سے سوال کر رہے ہیں،جھوٹ کو جتنا مرضی سچ بناکر پیش کرنے کی کوشش کریں وہ جھوٹ،جھوٹ ہی رہے گاجہاں تک کسی بھی ایسے مس ایڈونچر کی بات ہے تو پہلے بھی انہوں نے جھوٹ ہی کیا ۔جھوٹ کا تو جواب نہیں ہوتا۔ایک چیز ہوئی ہی نہیں اس کا کیا جواب دیں ۔پاکستان کسی بھی مس ایڈونچر کا جواب دینے کے لئے ہر وقت تیار ہے ۔ خواہ ایل او سی پر فائرنگ ہو یا کسی بھی قسم کا مس ایڈونچر ہولیکن یہ چیز کرنے سے پہلے بھارت کو یہ سوچنا چاہئے کہ اس کا رد عمل کیا ہوسکتا ہے ،اس کے نتائج کیا ہوں گے ،اس کے نتائج ہمارے دوطرفہ امن اور خطے پر کیا ہوسکتے ہیں ۔یہ سمجھنے کی ضرورت ہے اس وقت راستہ پر امن رہنے اور مذاکرات کا ہے ۔انہیں چاہیے کہ وہ اپنے اندرونی مسائل کو ہمارے کندھے پر رکھ کر حل کرنے کی کوشش نہ کریں،بھارت کسی بھی قسم کے داخلی دبائو میں آکر کوئی ایسی حرکت نہ کرے کہ جس کا نقصان بھارت کو بھی ہو اور خطے کو بھی ہو، وہ عقل سے کام لے ،جنگ کی باتیں نہ کرے ،انہوں نے کہاکہ آئندہ چند روز میں پریس ٹاک میں تفصیلی بات ہوگی۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہاکہ بھارتی آرمی چیف بھارتیہ جنتا پارٹی کے آلہ کار نہ بنیں،بپن راوت کا پاکستان مخالف بیان کسی طور مناسب نہیں ، انہیں سمجھنا چاہیے کہ وہ بی جے پی کے سربراہ نہیں ہیں۔فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت ایٹمی طاقتیں ہیں ،اس تناظر میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ نہیں ہوسکتی، دونوں ممالک میں مسائل کا واحد حل مذاکرات ہیں ، امن کروڑوں عوام کے مفاد میں ہے ۔ ہم نے امن کے لیے پہلے ہاتھ آگے بڑھایا اور ہم اب بھی امن کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے جب کہ دنیا دیکھ رہی ہے کون امن اور کون جنگ چاہتاہے ۔بھارت نے طے شدہ ملاقات منسوخ کر کے منفی سوچ کا ثبوت دیا ، ہم نے مذاکرات کے لئے اپنا ہاتھ بڑھایا ہے لیکن بھارت نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا ، عالمی سطح پر بھارت کا چہرہ بے نقاب اور پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر ہوا ہے ، پاکستان آج تاریخ کی درست سمت پر کھڑا ہے ، پاکستان کرتارپور بارڈر کھولنے کے لئے تیار ہے ، امریکی وزیر خارجہ کے دورہ پاکستان کے بعد امریکہ نے اپنی سوچ تبدیل کی ہے ، اگربھارت اپنی سوچ تبدیل نہیں کرنا چاہتا تو یہ اس کی مرضی ہے ۔ اس سے قبل جمعہ کو بھارتی دفترخارجہ نے ایک روز قبل طے پانے والی وزرائے خارجہ ملاقات منسوخ کردی ،دفتر خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے کہاکہ حالیہ واقعات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان سے کسی بھی طرح کے مذاکرات بے معنی ہیں،پاکستان کی جانب سے تعلقات کے نئے آغاز کے لیے مذاکرات کی تجویز کے پیچھے چھپا اس کا مکروہ ایجنڈا سامنے آگیا ، وزیر اعظم عمران خان کا اصل چہرہ پوری دنیا نے دیکھ لیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ ملاقات کی منسوخی کی وجہ مقبوضہ کشمیر میں 3 سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت اور پاکستان کی جانب سے کشمیری مجاہد برہان وانی کی تصویر کے ڈاک ٹکٹس کا اجرا ہے ۔ہفتے کوبھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت نے کہاکہ وقت آگیا پاک فوج سے بدلہ لیا جائے ، پاکستان کو اسی کی زبان میں جواب دینے اوردرد محسوس کرانے کا وقت آگیا ہے ۔دہشت گردوں اور پاکستانی فوج سے بربریت کا بدلہ لینے کے لئے ہمیں سخت کارروائی کرنی ہوگی۔ بغیر بربریت کا سہارا لئے ہمیں جواب دینا ہوگا۔میڈیا سے گفتگو میں جنرل بپن نے ملاقات کی منسوخی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہاکہ دہشت گردی اور بات چیت ایک ساتھ نہیں چل سکتے ۔ ہم اپنی حکمت عملی آشکار نہیں کریں گے ۔ عسکری کارروائی ہمیشہ سرپرائز ہوتی ہے ، ہرقسم کی دہشتگردی کو شکست دینے والے پاکستان کو بھاشن دیتے ہوئے بپن راوت نے کہاکہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کو لڑنے کی ضرورت ہے ۔ہم پاکستانی فوج کی دھمکیوں سے ڈرنے والے نہیں۔بھارتی آرمی چیف نے مزید کہا کہ ہتھیاروں کی ضرورت ہے ، مزید ہتھیارخریدتے رہیں گے ۔ انہوں نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کرنے ہوں گے ۔