رنگ بھی نور بھی سب ہی تیرے ہوئے
تیری مسکان سے ہی سویرے ہوئے
تیری آمد عطا تو سخا تو وفا
تو سبھی کا ہوا، ہم نہ تیرے ہوئے
خاک اور خار ہیں ہم تو آزار ہیں
اے حبیب خدا ہم شرمسار ہیں

تیرے دیں پر اٹھیں آندھیاں ہر طرف
لُٹ رہی ہیں تری بیٹیاں ہر طرف
اب تو شام غریباں ہی ہر شام ہے
سوگ ہے ہرطرف سسکیاں ہر طرف
سر نگیں شرمگیں اب تو کہسار ہیں
اے حبیب خدا ہم شرمسار ہیں

تم سے جو بھی کبھی ہم نے وعدے کیے
نہ ہی پورے کیے اور نہ آدھے کیے
بے حسی بھی رہی خودپرستی رہی

خود کو سجدے کیے خود کو قعدے کیے
تیرے ہاں ہم ترے ہی خطاکار ہیں
اے حبیب خدا ہم شرمسار ہیں

ہیں یہ دعوے کہ ہم تیرے شیدائی ہیں
ہے تماشا یہاں ہم تماشائی ہیں
یا رسول خدا بحرِ نظرِ کرم
ہم ہیں جور و جفا ہم ہی رسوائی ہیں
ہیں سراپا گنہہ ہم گنہگار ہیں
اے حبیب خدا ہم شرمسار ہیں

ہے یہ عہد وفا، تیرے دیں پہ فدا
یہ جان و جناں اور قوسِ قزح

بس کرم کیجیو، اے حبیب خدا
مصطفی مصطفی، مصطفی مصطفی
المدد یارسول، المدد یارسول