نابغہ روزگار ہستی عظیم عاشق رسولﷺ حضرت علامہ احمد علی قصوری
صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے وائین ہال میں علامہ احمد علی قصوریؒ کی یاد میں تعزیتی ریفرنس انعقاد پزیر تھا۔ نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے چےئرمین سابق صدر مملکت جناب جسٹس (ر)فیق احمد تارڑ کرسی صدارت پہ تشریف فرماء تھے۔ اُن کے دائیں ہاتھ ممتاز ماہر تعلیم نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے وائس چےئرمین ڈاکٹر پروفیسر رفیق احمد صاحب تشریف رکھتے تھے۔طاہر رضا بخاری ڈائریکٹر جنرل محکمہ اوقاف پنجاب بھی ساتھ والی نشست پر متمکن تھے۔ جناب ضیا ء الحق نقشبندی اور جناب علامہ جاوید نوری ، علامہ احمد علی قصوری کے بیٹے اسامہ قصوری علامہ صاحبؒ کے تایازاد جناب پروفیسر عرفان، حرمت رسول موومنٹ کے ترجمان علی عمران شاہین اور دیگر مہمان تشریف فرماء تھے۔ جناب شاہد رشید صاحب اِس تعزیتی ریفرنس میں نظامت کے فرائض انجام دئے رہے تھے۔مجھ ناچیز کے حصہ میں بھی یہ سعادت آئی کہ مجھے بھی حضرت علامہ احمد علی قصوریؒ کی زندگی کے حوالے سے کچھ کہنے کا موقع ملا۔ محکمہ اوقاف کے ڈائریکٹر جنرل طاہر رضا بخاری نے اپنے خطاب میں علامہ احمد علی قصوری ؒ کی حضرت اقبالؒ کے ساتھ محبت اور اقبالؒ شناسی کے حوالے سے تذکرہ کرتے ہوئے اُنھیں شاندار الفاط میں خراجِ تحسین پیش کیا۔طاہر رضا بخاری کا کہنا تھا کہ علامہ صاحبؒ ایک عظیم عاشق رسولﷺ اور پاکستان سے محبت کرنے والے تھے۔پروفیسر عرفان نے اپنے خطاب میں کہا کہ علامہ صاحبؒ میرئے تایازاد بھائی تھے اور میرئے لیے اُن کی شفقت باپ کی طرح تھی۔پروفیسر عرفان نے مزید کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ میں پھر سے یتیم ہوگیا ہوں۔علامہ صاحبؒ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے جناب شاہد رشید نے اُنھیں عظیم بیباک رہنماء قرار دیا ۔ شاہد رشید کا کہنا تھا کہ علامہ صاحبؒ جیسی شخصیت وطن عزیز کے لیے عظیم نعمت تھی اور اُنھوں نے ہمیشہ حق و صداقت کے لیے قربانی دی۔ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے وائس چےئرمین سابق وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی ممتاز ماہر معاشیات ڈاکٹر رفیق احمد نے علامہ احمد علی قصوریؒ کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔ڈاکٹر رفیق احمد کا کہنا تھا کہ جناب علامہ صاحبؒ نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے پروگراموں میں باقاعدگی سے تشریف لاتے اور جب بھی کسی مجلس میں کسی نکتہ پر اعتراض ہوتا تو بہادری سے اور دلائل سے اپنا موقف بیان کرتے یوں ہمیں بعد میں اندازہ ہوتا کہ علامہ صاحبؒ کا استدلال درست تھا۔ ڈاکٹر رفیق احمد نے مزید کہا کہ احمد علی قصوری صاحبؒ کی بہت بڑی خوبی یہ تھی کہ اُنھوں نے رزق حلال کھایا اور اِسی سے اپنی اولاد کی پرورش کی۔وہ مسجد میں امامت بھی فرماتے اور خطابت بھی کرتے تھے لیکن اُنہوں نے اِس کام کو اپنے روزگار کا ذریعہ نہیں بنایا۔ راقم صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت علامہ اقبالؒ کے حوالے سے جناب علامہ احمد علی قصوریؒ صاحب کی محبت ہم جیسوں کے لیے تقویت کا باعث تھی۔اشرف عاصمی کا کہنا تھا کہ میری علامہ صاحب سے شناسائی کا تعلق اُس وقت سے ہے جب میں انجمن طلبہ ء اسلام کے ساتھ منسلک تھا اور طالب علم تھا یوں روحانی تعلق تین عشروں پہ محیط ہے۔اشرف عاصمی کا کہنا تھا کہ میری آخری ملاقات جناب علامہ قصوریؒ سے لاہور ہائی کورٹ میں اُس وقت ہوئی جب وہ غازی ممتاز قادری شہیدؒ کی غائبانہ نمازِ جنازہ پڑھانے کے لیے تشریف آئے۔ اُن کے ساتھ جناب جسٹس (ر ) خواجہ شریف بھی موجود تھے ۔ علی عمران شاہین تحریک حرمت رسولؒ اور تحریک آزادیِ کشمیر کے رہنماء نے کہا کہ علامہ صاحبؒ اتحاد اُمت کے بہت بڑی داعی تھے اور جب بھی اُن سے کسی پروگرام میں آنے استدعا کرتے تو وہ بخوشی تشریف لاتے۔ تعزیتی ریفرنس کے آخر میں نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے چےئرمین سابق صدر مملکت پاکستان جناب رفیق احمد تارڑ نے جناب علامہ قصوریؒ کو عظیم عاشق رسول قرار دیا ۔ رفیق تارڑ کا کہنا تھا کہ مرحوم اکثر میرئے ہاں تشریف لاتے اور شعر و سخن کی محفلیں بپا ہوتیں۔ رفیق تارڑ نے کہا کہ علامہ صاحب بہادر اور بے باک انسان تھے۔ وہ کسی سے ڈرنے والے نہیں تھے۔ اِس موقع پر حغرت علامہ احمد علی قصوری ؒ کی آڈیو تقریر کا اقتباس بھی حاضرین کو سُنایا گیا جس میں علامہ صاحب سات ستمبر کے حوالے سے نوجوانوں سے مخاطب تھے اور 1965 کی جنگ کا احوال بتا رہے تھے۔ ہر ذی روح نے موت کا ذایقہ چکھنا ہے ہمارئے عظیم رہنماء بزرگ احمد علی قصوریؒ اپنے رب کے حضور پیش ہو گئے ہیں ۔ پاکستان اسلام اور نبی پاکﷺ سے عشق کرنے والی ہستی ہمارئے لیے مینارہِ نور ہیں ۔علامہ احمد علی قصوری ؒ نامور عالم دین تھے، وہ نہایت جرات مند، حق گو، نہ بکنے والے نہ جھکنے والے تھے۔ گزشتہ کم و بیش نصف صدی سے لاہور کی دینی اور سیاسی سرگرمیوں میں شریک رہے۔ انہوں نے بھٹو کے ابتدائی دور میں ’’بنگلہ دیش نامنظور تحریک‘‘ میں حصہ لیا، بھٹو سرکار کے ڈنڈے بھی کھائے اور جیل بھی کاٹی۔ ان کی دینی اور سیاسی سرگرمیوں کا آغاز 1962ء سے ہوا جب علامہ قاضی عبدالنبّی کوکب کی زیر قیادت برکت علی اسلامیہ بال باغ بیرون موچی دروازہ میں پہلے یوم رضا کا جلسہ منعقد ہوا۔ علامہ قاضی عبدالنبی کوکب اور علامہ مفتی عبدالقیوم ہزاروی کے ساتھ وہ ضلع لاہور کی جمعیت علماء پاکستان کیلئے کام کرتے رہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں جب خواجہ محمد رفیق شہید ہوئے تو انکے جنازے کے جلوس میں علامہ عبدالستار خان نیازی اور دیگر زعما کے شانہ بشانہ علامہ احمد علی قصوری نے شرکت کی۔ علامہ قصوری نے علامہ شاہ احمد نورانی اور علامہ عبدالستار خان نیازی کی زیر قیادت تحریک نفاذ نظام مصطفی اور تحریک تحفظ ختم نبوت میں حصہ لیا۔ 1977ء کے جنرل الیکشن میں ہونے والی دھاندلی کے خلاف 9 ستاروں (9 جماعتوں کے اتحاد) کی احتجاجی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ 30 مارچ کو لاہور میں لوہاری گیٹ کے باہر مسلم مسجد کے سامنے جمعیت علماء پاکستان کے زیر اہتمام ایک احتجاجی ریلی کا اہتمام کیا گیا اس کی قیادت علامہ مفتی عبدالقیوم ہزاروی اور علامہ احمد علی قصوری نے کی۔ شروع میں ہی کچھ لوگوں کی گرفتاریاں کرکے جلوس کے شرکاء پر تشدد کیا گیا۔ پولیس فورس جوتوں سمیت مسلم مسجد میں داخل ہو گئی۔ مسجد میں وضو کے حوض اور سیڑھیوں میں نوچی گئی داڑھیوں کے بال اور خون کے چھینٹے پھیلے ہوئے تھے۔ اس روز گولی بھی چلی تھی اور خبر یہ تھی کہ کم از کم دس لوگ شہید ہوئے۔ اس سے قبل ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں شادباغ، وسن پورہ، مصری شاہ، فیض باغ وغیرہ کے قومی حلقہ میں ہونے والے ضمنی الیکشن میں جمعیت علماء پاکستان کی مرکزی قیادت علامہ شاہ احمد نورانی اور علامہ عبدالستار خان نیازی نے علامہ احمد علی قصوری کو جمعیت کی طرف سے امیدوار نامزد کیا اور شادباغ کی گول گراؤنڈ میں انتخابی جلسہ میں علامہ شاہ احمد نورانی اور علامہ عبدالستار خاں نیازی نے خطاب کیا۔ جب یورپ کے بعض بدبخت اخبار مالکان نے متنازع خاکے شائع کئے تو پاکستان بھر میں اس کے خلاف احتجاجی جلسے اور ریلیاں نکالی گئیں۔ لاہور میں مزار حضرت داتا گنج بخش پر ایک تاریخی احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ علامہ ڈاکٹر سرفراز نعیمی، علامہ احمد علی قصوری، حزب الاحناف سے صاحبزادہ غلام مصطفے اور انجینئر سلیم اللہ نے قیادت کی یہ لاہور کی تاریخ میں سب سے بڑی ریلی تھی جو ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے دور حکومت میں نکالی گئی۔ اس ریلی میں سارا لاہور امڈ کر سڑکوں پر آگیا تھا۔ قائدین کا ٹرک ابھی مزار داتا گنج بخش سے گول باغ (ناصر باغ) تک بھی نہیں پہنچ سکا تھا کہ لوگوں کا جم غفیر چوک جی پی او سے چوک اسمبلی ہال تک پہنچ چکا تھا۔ اس دوران روایتی انداز میں ہونے والی شرپسند عناصر کی کارروائی بھی شروع ہو چکی تھی چوک ریگل کے آس پاس کئی عمارتوں کو آگ لگا دی گئی، لاتعداد موٹر سائیکلیں اور کاریں بھی تباہ ہو گئیں۔ اس ریلی پر اسلام آباد میں بیٹھا ہوا ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف سخت سیخ پا ہوا۔ وہ یقین ہی نہیں کر رہا تھا کہ اس کے آہنی پنجہ کی حکومت کے ہوتے ہوئے عوام کی اتنی بڑی تعداد سڑکوں پر کیسے نکل آئی۔اس نے صوبائی حکومت کو سب ذمہ داران کے خلاف سخت ایکشن لینے کا حکم دیا۔ احتمال تھا کہ حکومت قائدین کو غیر قانونی طریقے سے نقصان پہنچانے کی کوشش کریگی اس لئے ریلی کے تمام قائدین کچھ روز کیلئے ’’روپوش ہو گئے۔ ان میں علامہ ڈاکٹر سرفراز نعیمی، علامہ احمد علی قصوری، علامہ رضائے مصطفی، صاحبزادہ غلام مصطفی (حزب الاحناف) اور انجینئر سلیم اللہ بھی شامل تھے۔ چند ہفتوں کے بعد تمام قائدین گرفتار کر لئے گئے تاہم علامہ قصوری کو مسجد میں داخل ہو کر گرفتار کرنے کا حوصلہ پولیس نے نہ کیا تاہم علامہ قصوری سمیت سب رہنماؤں پر مختلف تھانوں میں مقدمات درج کرائے گئے جن میں فساد کرنے، املاک کونقصان پہنچانے اور آگ لگانے کے الزامات لگائے گئے۔ علامہ قصوری صاحب 2015ء تک ان مقدمات میں پیش ہوتے رہے۔ راقم خود پیر طاہر علا دین ؒ کے صاحبزادگان کے اغوا کے احتجاج پر جو بہت بڑی ریلی 1988 میں نکالی گئی اُس میں شریک تھا۔ مجھے یاد ہے جناب قصوری صاحبؒ نعرہ لگوارہا تھے وہ کون تھے جن پر ظلم ہوا غوث جلیؒ کے شہزادئے۔علامہ احمد علی قصوریؒ عاشقان رسولﷺ ، اقبالؒ پاکستان اور قائد ا عظمؒ سے محبت کرنے والی ایک عظیم ہستی تھے۔ اللہ پاک اُن کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے( آمین)