کل یہ لکھتی تھیں بچھڑنا تمہیں منظور نہیں
اب یہ کہتی ہے ”میرے خط مجھےواپس کردو”

ذکر، پیروں میں چھنکتی ہوئی زنجیر کا ہے
عذر، بیمارئی دل، گردشِ تقدیر کا ہے
فکر، خوابوں کی بگڑتی ہوئی تعبیر کا
خوف گذرے ہوئے دن رت کی تشہیر کا ہے
گویا تم جیسا جہاں میں کوئی مجبور نہیں

کل یہ لکھتی تھیں بچھڑنا تمہیں منظور نہیں
اب یہ کہتی ہو ” مرے خط مجھے واپس کر دو”

کلِ افسردہ وہ مغموم ہو پہلے کی طرح
حرفِ تسکین سے محروم ہو پہلے کی طرح
ہر ستم کر کے بھی مظلوم ہو پہلے کی طرح
یعنی معصوم کی معصوم ہو پہلے کی طرح
یہ الگ بات کہ چہرے پہ کہیں نور نہیں

کل یہ لکھتی تھیں بچھڑنا تمہیں منظور نہیں
اب یہ کہتی ہو ” مرے خط مجھے واپس کر دو”

کاش حاصل ہو تمہیں رتبہ عالی، سرکار
چشمِ دنیا میں رہو بن کے مثالی سرکار
یہ مگر سچ ہے مری موتیوں والی سرکار
دستِ واحد سے تو بجتی نہیں تالی سرکار
باہمی ربط و محبت کا یہ دستور نہیں

کل یہ لکھتی تھیں بچھڑنا تمہیں منظور نہیں
اب یہ کہتی ہو ” مرے خط مجھے واپس کر دو”

میں صفائی کوئی دوں گا نہ رضاحت دوں گا
تم کو واپس میں تمہاری یہ امانت دوں گا
پھر کبھی تم سے نہ ملنے کی ضمانت دوں گا
بس تمہیں ترکِ مراسم پہ یہ زحمت دوں گا
تم ہو بے چین تو میں بھی کوئی مسرور نہیں

کل یہ لکھتی تھیں بچھڑنا تمہیں منظور نہیں
اب یہ کہتی ہو ” مرے خط مجھے واپس کر دو”

تم پہ بھی قرض ہے اوّل ، مجھے واپس کر دو
میرا بیتا ہوا ہر پل مجھے واپس کر دو
میرا برسا ہوا بادل مجھے واپس کر دو
اپنے خط لے لو، مرا کل مجھے واپس کر دو
یہ محبت کی سحر ہے، شبِ دیجور نہیں

کل یہ لکھتی تھیں بچھڑنا تمہیں منظور نہیں
اب یہ کہتی ہو ” مرے خط مجھے واپس کر دو”