مولا

مرے مولا، عطا کر دے
خموشی کو، نوا کر دے

شکستہ ہوں عمل میں میں
کرم کی انتہا کر دے

بہت ہی میں نکما ہوں
برے کو تو بھلا کر دے

جبیں کب کب جھکاؤں میں
مرے سجدے سدا کر دے

میں مانگوں کیا ترے در سے
سراپا ہی، دعا کر دے

یہاں ہر سو اندھیرا ہے
نظر کر تو جلا کر دے