بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے جرمنی میں منعقد کیے گئے دنیا کے سب سے بڑے تجارتی میلے ’ہنوور میسے‘ کا افتتاح کر دیا ہے۔ رواں برس بھارت کو تجارتی میلے میں پارٹنر ملک کا درجہ دیا گیا ہے۔

بھارت اور جرمنی کے مابین باہمی تعلقات نئی بلندیوں کی طرف گامزن ہیں۔ بھارتی وزیر اعظم آج اتوار کے روز اپنے تین روزہ دورے پر جرمنی پہنچے۔ پیر کے روز وہ دوبارہ اس میلے میں شرکت کریں گے۔

بھارتی وزیر اعظم جرمن تاجروں کو اپنے ملک میں سرمایہ کاری کرنے پر قائل کریں گے اور اسی مقصد کے لیے وہ جرمن چانسلر کے ساتھ ساتھ جرمن کاروباری رہنماؤں کے وفد سے بھی ملیں گے۔

یہ تجارتی میلہ تیرہ سے سترہ اپریل تک جاری رہے گا جب کہ اس میں دنیا کے تقریبا ستّر ملکوں کے چھ ہزار پانچ سو نمائش کنندگان شرکت کر رہے ہیں۔ اس میلے میں مجموعی طور پر چار سو بھارتی کمپنیاں شرکت کر رہی ہیں۔

ہنوور میسے کے سینئر نائب صدر مارک زیمیرنگ کا کہنا ہے کہ بھارت مینوفیکچرنگ انڈسٹری میں ایک بڑی مارکیٹ کے طور پر ابھر رہا ہے اور جرمن کمپنیاں بھارت میں سرمایہ کاری کی خواہش مند ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پانچ روزہ ہینوور میلے میں دو لاکھ سے زائد افراد شرکت کریں گے۔ ان میں دنیا بھر کے بڑے صنعتی رہنما، ٹیکنالوجی سے وابستہ اہم شخصیات، صنعتی سائنس دان اور چوٹی کے پالیسی ساز بھی شامل ہوتے ہیں۔

گزشتہ برس ایک سو سے زائد ملکوں کی قریب پانچ ہزارکمپنیوں نے اس نمائش میں شرکت کی تھی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سن دو ہزر چھ کے بعد یہ دوسرا موقع ہے جب بھارت کو پارٹنر ملک کا درجہ دیا گیا ہے۔ اس سے قبل چین اور روس کو پارٹنر ممالک کا درجہ دیا گیا تھا۔

ہینوور میسے میں بھارت کی نمائندگی کرنے والی تنظیم انجینئرنگ ایکسپورٹس پروموشن کونسل آف انڈیا کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر بھاسکر سرکار نے کہا، ’’ہینوور میسے انجینئرنگ ٹیکنالوجی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ ہم دنیا کو یہ بتا سکتے ہیں کہ بھارت میں ٹیکنالوجی کی ترقی کیسے ہو رہی ہے۔ یہ ایک بین الاقوامی میلہ ہے، دنیا بھر سے لوگ یہاں آتے ہیں، ان سے رابطہ ہوتا ہے جو بعد میں بزنس میں تبدیل ہوتا ہے۔‘‘

خیال رہے کہ جرمنی یورپی یونین میں بھارت کا سب سے بڑا اور عالمی سطح پر چھٹا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ملک ہے۔ دونوں ملکوں کے مابین سالانہ تجارت کا حجم 21 بلین ڈالر سے زائد بنتا ہے۔