اٹک(اردو لائن نیوز ) موبائل کمپنیوں کے کال سنٹرزکے مخصوص نمبروں سے صارفین کو لوٹنے والے گروہ mobile300سرگرمِ عمل ،صارفین کی شکایات پرموبائل کمپنیوں کی عدم دلچسپی سے عوام عدم تحفظ کاشکار، گروہ کے اراکین مطلوبہ نتائج برآمدنہ ہونے پرگالم گلوچ اوردھمکیوں پراترآئے، بائیومیٹرک سسٹم کے تحت تصدیق شدہ سموں کے ذریعے جرائم پیشہ عناصرکے خلاف کاروائی کون کرے گا؟تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی کوان کے زونگ کے نمبرپردونامعلوم نمبروں اورپھر زونگ کے کال سنٹر310سے کال اورایس ایم ایس کے ذریعے بھی اس بات کی تصدیق کی گئی کہ آپ کا بھاری رقم کاانعام نکلاہے جبکہ صارف کی تسلی کیلئے اس کے تمام کوائف بھی مذکورہ نمبرسے کال کرنے والے کے پاس محفوظ تھے مذکورہ اشخاص نے انعام کالالچ دیکرگیارہ ہزارروپے بذریعہ ایزی پیسہ شناختی کارڈنمبر31204-2025585-1پرفوری طورپررقم بھیجنے کاکہاجب صحافی نے ایسا کرنے سے انکارکیاتومذکورہ افراددھمکیوں اورگالم گلوچ پراترآئے چنانچہ جونہی ان کی شکایت درج کرانے کیلئے زونگ کی ہیلپ لائن پررابطہ کیا گیاتووہاں سے تفصیلات کے اندراج کے بعد بتایاگیاکہ ہم نے مذکورہ نمبروں کووارننگ جاری کردی ہے مگر کیاوارننگ جاری کرنے سے صارف کااستحقاق یاذہنی اذیت کاازالہ ہوجاتاہے؟سینئرصحافی نے پی ٹی اے حکام اوروزارت داخلہ سے درخواست کی ہے کہ ان نمبروں کوٹریس کرکے اس میں ملوث عناصراورمذکورہ کمپنی کے ذمہ داران کے خلاف فوری کاروائی عمل میں لائی جائے تاکہ عام شہری ایسے شرپسندعناصرکے ہتھکنڈوں سے محفوظ رہ سکیں ورنہ لوگوں کاموبائل کمپنیوں سے اعتماداٹھ جائے گاکیونکہ ایسی صورتحال میں پہلاتاثریہی پیداہوتاہے کہ یہ جرائم پیشہ عناصر موبائل کمپنیوں کی ملی بھگت ہی سے لوگوں کولوٹ رہے ہیں۔