ہے ظلم کا بازار، مایوس نہ ہونا
ہر کار ہے آزار، مایوس نہ ہونا

سسکی ہے، فغاں ہے، آنسو بھی لہو بھی
ہیں کرب کے آثار، مایوس نہ ہونا

اک آگ ہے، طوفاں ہے، کہرام و قہر بھی
ہر جھونکا شرربار، مایوس نہ ہونا

بارود کی بُو ہے وہ نوک قلم میں
گوریدہ ہیں افکار، مایوس نہ ہونا

اک خوف مجسم ہے، آنکھوں میں سبھی کی
وحشت کا ہے اظہار، مایوس نہ ہونا

گرداب ہے، طوفاں ہے، ہر سمت دھواں ہے
ہر رستہ کہربار، مایوس نہ ہونا

سایہ نہ سکوں ہے، سحر ہے نہ صبا ہے
جُھلسے ہوئے اشجار، مایوس نہ ہونا

ہستی ہی مٹا دے، ہے ظلم کا اعلان
پھر یورشِ تاتار، مایوس نہ ہونا

عدل، امن، انساں، سب کُچھ ہے یہاں بکتا
طاقت کا ہے بیوپار، مایوس نہ ہونا

سچائی، صبر، جرأت، منزل کا یقیں رکھو
گر نظم ہے تلوار، مایوس نہ ہونا

پریشاں ہو، دُکھی ہو، آزردہ میرے راہی
ہیں سید ابرارؐ، مایوس نہ ہونا