358747_14820661راولپنڈی:  لال حویلی اور اس کے قرب و جوار میں آج کا دن ہنگامہ خیز رہا۔ مری روڈ میدان جنگ بن گیا۔ مشتعل مظاہرین نے کنٹینر اور ریڑھی کو آگ لگا دی۔ پکڑ دھکڑ اور جلاؤ گھیراؤ کا سلسلہ سارا دن جاری رہا۔ راولپنڈی رینج میں پی ٹی آئی کے 50، عوامی مسلم لیگ کے 4، پاکستان عوامی تحریک کے 8 اور مسلم لیگ قائد اعظم کے 12 کارکنوں کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔ تحریک انصاف کے گرفتار ہونے والے ایم پی اے اعجاز خان جازی سمیت 16 کارکنوں کو تھانہ کینٹ منتقل کر دیا گیا۔ اس سے قبل، آج صبح قدم قدم پر کھڑی رکاوٹیں عبور کر کے عوامی مسلم لیگ کے کارکن کمیٹی چوک جا پہنچے تھے۔ پولیس کی نفری نے مظاہرین کو پکڑنا چاہا تو معرکہ آرائی شروع ہو گئی۔ مظاہرین نے پتھراؤ کیا۔ پولیس نے شیلنگ سے جواب دیا۔ اس کے بعد پولیس اور مظاہرین میں آنکھ مچولی شروع ہو گئی۔ مظاہرین اچانک گلیوں سے نمودار ہوتے، نعرے لگاتے اور غائب ہو جاتے۔ پولیس نے پی ٹی آئی رہنماء اعجاز خان جازی سمیت متعدد کارکنوں کو گرفتار بھی کر لیا۔ مظاہرین نے میڈیا وینز پر بھی پتھر برسائے۔ پولیس کی شیلنگ سے صحافی بھی متاثر ہوئے۔ راولپنڈی کے لیاقت باغ چوک پر بھی پولیس اور مظاہرین کا آمنا سامنا ہوا۔ شیلنگ کے باعث چھ مظاہرین بے ہوش بھی ہو گئے۔