تحریر -ڈاکٹر میاں ندیم انور

قندیل بلوچ کو اس کے بهائی نے ہی قتل کیا ہے. لیکن اصل قاتل کوئی اور ہیں. جنہوں نے ایک طے شدہ پروگرام کے تحت قندیل کے بهائی وسیم عظیم کو غیرت کے نام پر اشتعال دلایا کہ تمہاری بہن کیا گل کهلا رہی ہے. اور انہی لوگوں نے ہی وسیم عظیم کو نشہ دلانے والی دوا لا کر دی تھی. جس پر پہلے دودھ میں نشہ آور دوا دی گئی اور بعد ازاں گلا گهونٹ کر وسیم نے قندیل بلوچ کو ابدی نیند سلا دیا اور موقع سے فرار ہو گیا جیسے بعد میں پولیس نے گرفتار کر کے عدالت میں پیش کر کے جسمانی ریمانڈ حاصل کیا ہے. اب پولیس کے سامنے اس نے غیرت کے نام پر قتل کرنے کا اعتراف کیا ہے. یہ غیرت کے نام پر قتل کروانے والوں نے قندیل بلوچ کو مروانے کے لیے ملتان سے ہی مقامی عام لوگوں کو استعمال کرتے ہوئے وسیم عظیم کے پاس اس کی دکان پر مختلف بہانوں سے بهجوا کر اشتعال دلانے میں اہم کردار ادا کیا تها. ہمارے ملتان سے ذرائع کے مطابق یہ واقعہ ظاہری طور پر غیرت کے نام پر کروایا گیا ہے لیکن اصل حقائق یہی ہیں کہ مروانے والوں نے ایک ایسی چال چلی کہ وسیم کو غیرت مند بنا ڈالا. حالانکہ قندیل بلوچ پہلے بھی اپنے گھر آتی جاتی اور بهائی سمیت سب کو خرچہ وغیرہ دیتی تھی. ذرائع کے مطابق قندیل کے والد اور والدہ کو بھی بعض لوگوں کی طرف سے غیرت دلانے کی کوشیش کی جا رہی تھی لیکن وسیم نے یہ کام بہت آسانی سے کر ڈالا. قندیل بلوچ کا ایک بهائی احساس ادارے کا ملازم ہے اس کو بھی بلا وجہ مقدمہ میں ملوث کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے. جبکہ وه تو اپنی ڈیوٹی پر مامور تها. میرے تجربے و تجزیہ کے مطابق اب کیس عدالت میں چلے گا. پولیس اس قتل کو غیرت کے نام پر مثل مکمل کر کے عدالت پیش کرے گی اور وسیم عظیم کو اس کا حقیقی باپ جو کہ مقدمہ کا مدہی بهی ہے. وه الله واسطے خون معاف کر دے گا اور وسیم عظیم باعزت بری ہو کر پهر اپنی دکان پر انہی لوگوں کے درمیان ہو گا جنہوں نے اس کو بعض خفیہ لوگوں کی طرف سے غیرت دلائی تھی اور وہ لوگ اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے تھے. آخر کب تک ہمارے معاشرے میں غیرت کے نام پر اسی طرح عورتوں اور نوجوان لڑکیوں کو قتل کی بهینٹ چڑھایا جاتا رہے گا. کیا کسی نے کبهی اپنے بیٹے کو بھی غیرت کے نام پر قتل کیا ہے. معذرت کے ساتھ کہ اگر غیرت کے نام پر مردوں کے قتل ہونے شروع ہو جائیں تو پھر ہمارے معاشرے کا کیا حال ہوگا.

” غیرت کے نام پہ فقط بیٹی ہی قتل کیوں…..؟

مارا ہو باپ نے کوئی بیٹا مثال دو. ….!!