قلم جب درہم و دینار میں تولے گئے تہے
کہاں تک دل کی چنگاری، ترے شعلے گئے تہے

فصیلِ شہر لبِ بستہ ! گواہی دے کہ لوگ
دہانِ حلقہِ زنجیر سے بولے گئے لوگ

تمام آزاد آوازوں کے چہرے گرد ہو جائیں
فضائوں میںکچھ ایسےزہر بھی گھولےگئےتھے

وہ خاکِ پاک ہم اہل حجبت کو ہے اکسیر
سرِ مقتل جہاں نیزوں پہ سر تولے گئے تھے