Nawaz-Sharif27-400x300سلام آباد: فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں سابق وزیراعظم میاں نوازشریف پر فرد جرم عائد کر دی گئی۔ احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم کے نامزد نمائندے ظافر خان نے صحت جرم سے انکار کرتے ہوئے تمام الزامات مسترد کردیئے۔ فاضل جج نے ملزموں کو فرد جرم کے نکات پڑھ کر سنائے۔ فرد جرم میں کہا گیا کہ نواز شریف وزیر اعلیٰ، وزیر اعظم کے عہدوں پر فائز رہے، 89۔90 میں حسن اور حسین والد کے زیر کفالت تھے، حسن نواز کی طرف سے 90 سے 95 تک کے اثاثوں کا ریکارڈ جمع کرایا گیا، حسن نواز نواز شریف کے اثاثے دیکھتے تھے۔ فرد جرم میں کیپٹل زیڈ ای کمپنی کا زکر بھی شامل ہے، نواز شریف 2007 سے لے 2014 تک کیپیٹل ایف زیڈ ای کے چیئرمین رہے۔ فرد جرم میں مزید کہا گیا کہ نواز شریف نے جے آئی ٹی کو بیان دیا کہ کمپنیوں میں شیئر ہولڈر ہیں، نواز شریف نے سپریم کورٹ میں بھی بیان جمع کرائے۔ واضح رہے احتساب عدالت نے گزشتہ روز سابق وزیراعظم نواز شریف پر ایون فیلڈ پراپرٹیز، العزیزیہ سٹیل ملز جبکہ مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر پر ایون فیلڈ پراپرٹیز کے ریفرنس میں فرد جرم عائد کی تھی، ملزموں نے صحت جرم سے انکار کرتے ہوئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے، انصاف کے تقاضے پورے نہیں کئے جا رہے۔ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نیب کے تین ریفرنسز پر سماعت کی، مریم نواز، کیپٹن (ر) صفدر عدالت میں پیش ہوئے جبکہ نواز شریف پھر غیر حاضر رہے، مریم نواز نے تسبیح تھام رکھی تھی جس پر وہ دوران سماعت مسلسل وظائف پڑھتی رہیں، یہ ان کی تیسری پیشی تھی جو 5 گھنٹے جاری رہی