انسداد دہشت گردی اور عالم اسلام کے متفقہ امن بیانیہ ی کی تیاری کے لیے OIC کا خصوصی اجلاس 9اور 10اپریل کو ریاض سعودی عرب میں ہورہا ہے، اس خصوصی اجلاس میں دنیا بھر سے اسلامک سکالرز کو مدعو کیا گیا ہے، منہاج القرآنQadRi انٹرنیشنل کے بانی ڈاکٹر طاہرالقادری نے ایک ماہ کے مختصر عرصہ میں موضوع کے مطابق تین کتب تحریر کی ہیں جو 10اپریل کے اجلاس میں 56 مسلم ممالک کے مندوبین میں تقسیم کی جائینگی، پہلی کتاب ’’اسلام میں غیر مسلموں کا تحفظ‘‘ دوسری کتاب ’’بغاوت اور دہشت گردی‘‘ تیسری کتاب ’’تصور جہاد اور اس کی حقیقت‘‘ کے موضوع پر مشتمل ہے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری او آئی سی کے اجلاس میں شرکت کیلئے 7اپریل کو ریاض پہنچے جہاں ایئرپورٹ پر او آئی سی حکام نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ یہ امر باعث مسرت ہے کہ عالم اسلام کے واحد نمائندہ فورم او آئی سی نے دہشت گردی کے خاتمے اور قیام امن جیسی ناگزیر ضرورت پر متفقہ امن بیانیہ کی تیاری اور آئندہ نسلوں کو انتہا پسندی اور دہشت گردی کی باطل فکر سے بچانے کے لیے اہم اجلاس بلایا ہے، یہ امر بھی باعث مسرت ہے کہ او آئی سی نے منہاج القرآن انٹرنیشنل اور ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی فروغ امن اور اسلام کے پرامن تشخص کیلئے عالمگیر تحریری، تقریری اور عملی خدمات پر انہیں براہ راست اجلاس میں شرکت اور خطاب کی دعوت دی، ڈاکٹر طاہرالقادری کے ساتھ او آئی سی نے سوال و جواب کا ایک خصوصی سیشن بھی رکھا ہے جو ان کے علمی مرتبہ اور بین الاقوامی خدمات کا اعتراف ہے، امن کے حوالے سے اسلام کی فکر اور تعلیمات کو اجاگر کرنے کیلئے ڈاکٹر طاہرالقادری نے 40 کے لگ بھگ کتب بھی تحریر کیں جن کے تراجم دنیا کی مختلف زبانوں میں ہو چکے ہیں، ڈاکٹر طاہرالقادری نے اس سے بھی ایک قدم آگے آتے ہوئے پوری دنیا میں امن ورکشاپس منعقد کیں اور بین المذاہب مکالمہ کی بنیاد رکھی ، او آئی سی کی طرف سے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کو مدعو کرنا اور ان سے متفقہ امن بیانیہ کیلئے تعاون کی درخواست کرنا ان کی خدمات اور علمی شخصیت کا باوقار اعتراف ہے، بلاشبہ یہ اعزاز صرف تحریک منہاج القرآن کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کا ہے۔ پاکستان زندہ آباد