کھانا نصیب نہیں ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو ایوبؓانصاری کے گھر تشریف لے گئے وہ اپنے کھجوروں کے باغ سے کھجوریں توڑ لائے اور کھانے کا سامان کیا ، کھانا، جب سامنے آیا تو آپؐ نے ایک روٹی پر تھوڑا سا گوشت رکھ کر فرمایا کہ یہ فاطمہؓ کو بھجوادو، کئی روز سے اسے کھانا نصیب نہیں ہوا۔ زندگی آپؐ کی روزمرہ کی زندگی غریبوں اور مسکینوں کی سی تھی اور انہی کے ساتھ ان کو خاص طورپر محبت اور یک جہتی کا احساس تھا۔ ہرقسم کا ہاتھ کا کام خود کرلیتے تھے۔ اس میں کسی طرح کی عار نہ تھی، گھر کی صفائی کرتے، مویشیوں کو چارہ ڈالتے ، بازار سے سامان خریدتے، پھٹے کپڑوں کو پیوند لگاتے، ٹوٹے جوتوں کو گانٹھتے ، خدمتگاروں کے ساتھ بیٹھ کر اکٹھے کھاناکھاتے اور اگر بعض دفعہ کھانے کو کچھ بھی میسر نہ ہوتاتو خدا کا شکر ادا کرتے اور بھوکے ہی سوجاتے کبھی کئی کئی ہفتے چولہے میں آگ نہ جلتی اور پانی اور کھجوروں پر گزارہ ہوتا۔ سادگی کا یہ عالم کھانے میں آنجناب ؐ کی سادگی کا یہ عالم تھا کہ آپؐ کی غذا عموماً جو کی روٹی ہوتی تھی اور چونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں چھلنی نہیں تھی اس لئے اس کی بھوسی پھونک مارکر ہٹا دی جاتی تھی۔ چنانچہ عمر بھر آپؐ نے نہ کبھی چھنے ہوئے باریک آٹے کی روٹی تناول فرمائی اور نہ ہی کبھی دسترخوان پر کھانا کھایا ، آپؐ نے کبھی کسی کھانے کو برا نہیں کہا۔ جو کچھ موجود ہوتا تھا وہی تناول فرما لیتے تھے اور بھوک نہیں ہوتی تھی تو چھوڑ دیتے تھے۔ نصف کھجور آپ اپنے اہل وعیال سے زیادہ اپنی امت کی آسائش وسہولت کا خیال رکھتے تھے چنانچہ لگان و خراج سے جو مال ودولت اور اشیا آپ کو موصول ہوتیں آپ فوری طورپر لوگوں میں تقسیم کردیتے تھے اور کبھی ایسا بھی ہوتا کہ اپنے لئے کچھ نہ چھوڑتے چنانچہ ام المومنین حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ بسا اوقات تین تین روز تک گھر میں آگ نہ جلتی اور آل نبیؐ ایک یا نصف کھجور کھا کر روزہ افطار کرلیتے۔ کھائیے اور کھائیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر جب کوئی مہمان ہوتا تو آپ بار بار اس سے فرماتے جاتے ، کھائیے اور کھائیے، جب مہمان خوب سیر ہوتا اور بے حد انکار کرتا تب آپ اپنے اصرار سے باز آجاتے۔ سادہ زندگی آپؐ نے زندگی بہت سادہ بسر کی اور وفات سے پہلے فرمایا۔ ’’کہ میرے ورثاء کو میرے ترکہ میں روپیہ پیسہ کچھ نہ ملے گا۔‘‘ حقیقت میں آپؐ کے پاس دنیوی سازوسامان میں سے کچھ تھا ہی نہیں جو کسی کو دیا جاتا۔ حالت تو یہ تھی کہ آپؐ کی زرہ مبارک ایک یہودی کے پاس تیس درہم کے عوض گروی رکھی ہوئی تھی اور آپؐ کے پاس اتنی رقم بھی نہ تھی کہ اسے چھڑا لیتے۔ آپؐ نے ترکہ میں صرف اپنے ہتھیار، ایک خچر اور تھوڑی سی مملوکہ زمین کے سوا کوئی چیز نہیں چھوڑی اور ان اشیا کی بابت بھی ارشاد فرمایا کہ یہ خیرات کردی جائیں۔ ٹاٹ کا ٹکڑا حضرت حفصہ ؓ فرماتی ہیں گھر میں ایک ٹاٹ کا ٹکڑا تھا، جسے ہم دہرا کردیا کرتے تھے۔ آنجنابؐ اسی پر آرام فرمایا کرتے تھے۔ ایک رات میں نے خیال کیا کہ اگر اس کی چارتہیں کردیں تو غالباً آپؐ کو زیادہ آرام ملے گا۔ چنانچہ ہم نے ایسا ہی کیا ۔ جب صبح ہوئی تو آپؐ نے پوچھا۔ ’’رات کو تم نے میرے لیے کیا بچھایا تھا‘‘؟ میں نے کہا۔ ’’وہی آپؐ کا ٹاٹ تھا ، مگر اس کی چارتہیں کردی تھیںتاکہ آپؐ بہتر طریقے سے آرام کرسکیں‘‘ آپ ؐ نے فرمایا کہ نہیں اسے جیسا پہلے تھا ویسا ہی کردو۔ اس نے مجھے نماز شب سے بازرکھا۔ خدا کا شکر گزار آپؐ راتوں کو اتنی دیرتک نماز میں کھڑے رہتے تھے کہ پائوں مبارک پر ورم آجاتا تھا، یہ دیکھ کر بعض صحابہؓ نے عرض کیا کہ ’’یارسول اللہؐ ! آپؐ کی مغفرت تو خدا کرچکا ہے۔ اب آپ ؐ کیوں یہ زحمت اٹھاتے ہیں، ارشاد ہوا: ’’کیا میں خدا کا شکرگزار بندہ نہ بنوں ‘