شاہی لباس ایک مرتبہ ایک صحابیؓ ایک شاہی لباس لے کر آئے۔ چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرب کے مختلف حصوں سے وفود حاضر ہوا کرتے تھے۔ حضرت عمرؓ نے عرض کی یارسول اللہ ﷺآپ ﷺ یہ شاہی عبا خرید لیں تاکہ جب دوسرے شہروں یا ملکوں سے وفود آپؐ کی خدمت میں آئیں تو آپؐ اس کو پہن لیا کریں۔ یا جمعہ کے دن جو گویا مسلمانوں کے دربار عام کا دن ہے۔ آپؐ اس کو پہن لیں۔ اس وقت حضرت عمرؓ کی نظراسلام کے لیے اس ظاہری جاہ وجلال اورتزک واحتشام پر گئی جس کے شاہانِ وقت عادی تھے ۔ لیکن حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ناپسند فرمایا کہ مسلمانوں کا پیشوا شاہانہ جاہ وجلال کے اظہار کے لیے مبعوث نہیں ہوا۔ آپ ؐنے فرمایا جوشخص اس کو پہنتا ہے، آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں ہے۔ بلا امتیاز جنگ بدر میں حضرت مصعبؓ بن عمیرکے سگے بھائی ابو عزیز بن عمیر کو ایک انصاری پکڑکر باندھ رہا تھا۔ حضرت مصعب ؓ بن عمیر نے دیکھا تو پکارکر کہا۔ ’’ذرا مضبوط باندھنا ، اس کی ماں بڑی مالدار ہے اس کی رہائی کے لیے تمہیں بہت سا فدیہ دے گی۔ ‘‘ ابوعزیز نے کہا، تم بھائی ہوکر یہ بات کہہ رہے ہو۔؟ حضرت مصعب ؓ نے جواب دیا۔ ’’اس وقت تم میرے بھائی نہیں ہو بلکہ یہ انصاری میرا بھائی ہے جو تمہیں گرفتار کررہا ہے‘‘ اسی جنگ بدر میں خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد ابو العاص بن الربیع گرفتار ہوکر آئے اور ان کے ساتھ رسولؐ کی دامادی کی بنا پر قطعاً کوئی امتیازی سلوک نہ کیا گیا۔ مزدور کی طرح صحابہؓجب سب مل کر کوئی کام کرتے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ ان کے ساتھ شریک ہوجاتے اور معمولی مزدور کی طرح کام انجام دیتے ۔ مدینہ میں آکر سب سے پہلا کام مسجد نبویؐ کی تعمیر تھی۔ اس مسجد اقدس کی تعمیر میں دیگر صحابہؓ کی طرح خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی شریک تھے اور خود اپنے دست مبارک سے اینٹیں اٹھا اٹھا کر لاتے تھے، صحابہؓ عرض کرتے تھے، ہماری جانیں قربان آپؐ کیوں زحمت فرماتے ہیں، لیکن آپؐ اپنے فرض سے باز نہ آئے۔ غزوہ احزاب کے موقع پر بھی جب تمام صحابہؓ مدینہ کے چاروں طرف خندق کھود رہے تھے آپؐ بھی ایک ادنیٰ مزدور کی طرح کام کررہے تھے، یہاں تک کہ شکم مبارک پر مٹی اور خاک کی تہہ جم گئی تھی۔ تعظیمی الفاظ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے متعلق جائز تعظیمی الفاظ بھی نہیں پسند فرماتے تھے۔ ایک بار ایک شخص نے ان الفاظ سے آپؐ کو خطاب کیا’’اے ہمارے آقا اور ہمارے آقا کے فرزند! اور اے ہم میں سب سے بہتر اور ہم میں سب سے بہتر کے فرزند!‘‘ آپؐ نے فرمایا ! لوگو!پرہیز گاری اختیار کرو، شیطان تمہیں گرا نہ دے میں عبداللہ کا بیٹا محمد ہوں، خدا کا بندہ اور اس کا رسول ، مجھ کو خدا نے جو مرتبہ بخشا میں پسند نہیں کرتا کہ تم مجھے اس سے زیادہ بڑھائو۔‘‘ ایک دفعہ ایک شخص نے آپ ؐ کو یا خیرالبریتہ (یعنی اے بہترین خلق) کہہ کر مخاطب کیا آپؐ نے فرمایا وہ ابراہیم ؑ تھے۔‘‘ خبابؓ بن ارت ایک صحابی تھے۔ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو کسی غزوہ پر بھیجا۔ خبابؓ کے گھر میں کوئی مرد نہ تھا اور عورتوں کو دودھ دوہنا نہیں آتا تھا ۔ اس بنا پر آپ ؐ ہرروز ان کے گھر جاتے اور دودھ دوہیا کرتے ۔ چٹائی کے نشان ایک بار حضرت عمرؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حجرہ میں حاضر ہوئے جہاں آپؐ کی ضرورت کی چیزیں رہتی تھیں۔ دیکھا تو آپؐ ایک چمڑے کے تکیہ سے جس میں کھجور کے پتے اور چھال بھری ہوئی تھی ، ٹیک لگائے ہوئے ایک کھری چٹائی پر لیٹے ہوئے ہیں اور جسم مبارک پر چٹائی کے نشان پڑ گئے ہیں۔ حجرہ میں ادھر ادھر نگاہ دوڑائی لیکن تین سوکھے چمڑوں کے سوا کوئی دوسرا گھر کا سامان نظر نہ آیا۔ ایک طرف مٹھی بھر جو رکھے تھے اس منظر سے حضرت عمرؓ سخت متاثر ہوئے اور ان کی آنکھیں بھر آئیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے رونے کا سبب پوچھا۔ عرض کہ : اے اللہ کے رسول ؐ! میں کیوں نہ روئوں جب میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ (بستر نہ ہونے سے )چٹائی کے نشان پشت مبارک پر پڑ گئے ہیں اور آپؐ کے گھر کا سارا سامان میرے سامنے ہے ۔ ادھر قیصر وکسریٰ ہیں جو باغ وبہار اور عیش وآرام کے مزے لوٹ رہے ہیں، اور حضور اللہ کے رسولؐ ہیں اور آپ ؐ کا یہ حال ہے۔‘‘ ارشاد ہوا کہ ’’اے ابن خطاب ! کیا تمہیں یہ پسند نہیں کہ ہم آخرت لیں اور وہ دنیا ‘‘؟ باضابطہ نگرانی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ صحابہ ؓ کو سناتے تھے یا کرکے دکھاتے تھے اس کے متعلق صرف یہ حکم دے کر نہ رہ جاتے تھے کہ تم بھی ان کو یاد رکھنا یا کرنا بلکہ اس کی باضابطہ نگرانی فرماتے تھے کہ اس حکم کی کس حدتک تعمیل کی جاتی ہے۔ مہمات ، شریعت اور بنیادی امور کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نگرانی کا یہ حال تھا کہ ایک معمولی بات یعنی ایک صحابیؓ کو یہ بتاتے ہوئے کہ جب سونے لگو تو یہ دعا پڑھ کر سویا کرو۔ صحابی ؓ نے آخری فقرہ ’’ایمان لایا میں اس کتاب پر جو تونے اتاری اور اس نبیؐ پر جسے تو نے بھیجا ۔ میں نبیؐ کے لفظ کو رسولؐ کے لفظ سے بدل دیا جو تقریباً ہم معنی الفاظ ہیں۔ لیکن آپ ؐ نے چونکہ اپنی زبان مبارک سے نبی کا لفظ ادا فرمایا تھا حکم ہوا کہ میں نے یہ نہیں کہا وہی کہو جو میں نے بتایا ۔ ظاہر ہے کہ قانونی طورپر سونے کی دعا کی حیثیت ان شرعی حقائق کی نہیں ہے، جنہیں فرض وواجب کے ذیل میں شمار کیا جاتا ہے لیکن باوجود اس کے ایک ایک لفظ پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نگرانی تھی۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کوئی بات کرتے تو بعض اوقات اس کو تین دفعہ دہراتے ،غالباً اس میں بھی زیادہ تر دخل اسی مقصد کو تھا۔