وفا کریں گے عین میدان جنگ میں حضرت حذیفہؓ اور ابو حسل صحابیؓ شرکت جہاد کے لیے پہنچتے ہیں مگر جب آنحضرتﷺ کے پاس حاضر ہوتے ہیں تو راستے میں جو واقعہ پیش آیا تھا عرض کرتے ہیں کہ راستے میں کفار نے روکا کہ تم محمد کی امداد کو جارہے ہو۔ ہم نے انکار کیا اور ان سے وعدہ کیا کہ ہم جنگ میں شریک نہ ہوں گے۔ نبی اکرمؐ نے فرمایا تم دونوں کو وعدہ کے مطابق جنگ میں شرکت کی اجازت نہیں ہے۔ ہم ہر حال میں وعدہ وفا کریں گے۔ ہم کو صرف خدا کی مدد کافی ہے اور بس۔ پیار کرتے اپنے بچوں کے لیے بھی حضورؐ کے جذبات بڑے گہرے تھے۔ حضرت ابراہیم کو رضاعت (پرورش) کے لیے ایک لوہار کے گھر میں مدینہ کے بالائی مقام پرر کھا گیا تھا۔ آپؐ اپنے صاحبزادے کو دیکھنے کیلئے خاصہ طویل فاصلہ چل کر تشریف لے جاتے، اس لوہار کے گھر میں کام کی وجہ سے بہت دھواں بھرا ہوتا مگر نبیؐ وہاں دیر تک بیٹھتے اور بچے کو گود میں لے کر پیار کرتے۔ یہ امتیاز پسند نہیں ایک سفر میں کھانا تیار نہ تھا، تمام صحابہؓ نے مل کر کھانا پکانے کا سامان کیا۔ تمام صحابہؓ نے کام تقسیم کرکے اپنے اپنے ذمے لے لیے۔ جنگل سے لکڑیاں لانے کا کام آپؐ نے اپنے ذمہ لے لیا۔ صحابہؓ نے عرض کیا یارسول اللہ آپؐ تکلیف نہ کریں، ہم سب اس کام کے لیے کافی ہیں، فرمایا یہ سچ ہے لیکن میں نہیں چاہتا کہ اپنے آپؐ کو سب ساتھیوں سے ممتاز بنا لوں، مجھے یہ امتیاز پسند نہیں۔ خدا اس بات کو پسند نہیں فرماتا۔ یہ کہہ کر آپﷺ لکڑیاں لینے تشریف لے گئے۔ اخلاق کریمانہ ایک روز ایک اجنبی شخص رسول اللہﷺ کے پاس آیا، رسول خداؐ نے اسے کھانا کھلایا اور رات گزارنے کے لیے بستر بھی دیا، وہ کوئی نادان دشمن تھا۔ اس نے بستر خراب کردیا اور علی الصبح چلا گیا، یوں وہ اللہ کے رسولؐ سے اپنی قدیم دشمنی کا انتقام لینا چاہتا تھا، کچھ دور جا کر اسے احساس ہوا کہ وہ اپنی تلوار تو رسول اللہﷺ کے گھر میں ہی چھوڑ آیا ہے۔ چنانچہ وہ واپس آیا تو اس نے دیکھا کہ اللہ کے رسولؐ اسی بستر کو اپنے دستِ مبارک سے دھو ر ہے ہیں۔ جب رسول پاکﷺ نے مہمان کو دیکھا تو انہوں نے اس کی تلوار اٹھا کر اس کے حوالے کردی اور اس اجنبی کو ملامت تک نہ کی۔ اکھڑ بدو پر حضورؐ کے ان اخلاق کریمانہ کا اتنا اثر ہوا کہ اس نے رسول اللہﷺ سے معافی طلب کی اور کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوگیا۔ تین دن سے آپؐ کے مبعوث ہونے سے پہلے کا واقعہ ہے۔ عبداللہ ؓ ابن ابی لحما نے نبی کریمﷺ سے خرید و فروخت کا کوئی معاملہ کیا تھا۔ کچھ معاملہ باقی تھا۔ اس نے آپؐ سے کہا، آپؐ یہیں ٹھہریں۔ میں ابھی آتا ہوں۔ اتفاق سے وہ بھول گیا اور تیسرے دن جب یاد آیا تو وہ وعدہ والی جگہ پر فوراً پہنچا تو آنحضرتﷺ کو اسی جگہ منتظر پایا۔ لیکن اس وعدہ خلافی سے آپؐ کی پیشانی پر بل تک نہ آیا۔ صرف اسی قدر فرمایا کہ تم نے مجھے زحمت دی۔ میں اس مقام پر تین دن سے موجود ہوں۔ کون مسکین ہے آنحضرتﷺ نے فرمایا: ’’مسکین وہ نہیں ہے جس کو ایک دو لقمے دربدر پھرایا کرتے ہیں۔‘‘ صحابہؓ نے دریافت کیا پھر کون مسکین ہے، ارشاد ہوا ’’وہ جس کو حاجت ہے، لیکن اس کا پتہ نہیں چلتا اور وہ کسی سے مانگتا نہیں‘‘ چنانچہ فقرا اور مساکین میں سے ان لوگوں پر جو بے حیائی کے ساتھ دربدر بھیک مانگتے پھرتے ہیں ان کو ترجیح دی گئی ہے جو فقر و فاقہ کی ہر قسم کی تکلیف گوارا کرتے ہیں، لیکن اپنی عزت و آبرو اور خودداری کو ہاتھ سے نہیں جانے دیتے اور لوگوں کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے ہیں۔ گھر نہیں جاسکتا ایک دفعہ فدک سے چار اونٹوں پر غلہ لد کر آیا، کچھ قرض تھا وہ ادا کیا گیا، کچھ لوگوں کو دیا گیا، حضرت بلالؓ سے دریافت کیا گیا کہ بچ تو نہیں گیا۔ عرض کی اب کوئی لینے والا نہیں۔ اس لیے کچھ بچ رہا۔ فرمایا جب تک دنیا کا یہ مال باقی ہے میں گھر نہیں جا سکتا۔ چنانچہ رات مسجد میں بسر کی۔ صبح کو حضرت بلالؓ نے آکر بشارت دی کہ ’’یا رسول اللہﷺ جو کچھ تھا وہ تقسیم ہوگیا۔‘‘ آپؐ نے خدا کا شکریہ ادا کیا۔ اپنے لیے کچھ نہیں رسول اکرمﷺ کا عمل یہ رہا کہ جو کچھ آیا خدا کی راہ میں خرچ ہوگیا۔ غزوات اور فتوحات کی وجہ سے مال و اسباب کی کمی نہ تھی، مگر وہ سب غیروں کیلئے تھا۔ اپنے لیے کچھ نہ تھا، وہی فقرو فاقہ تھا۔ فتح خیبر کے بعد یعنی 7ھ سے یہ معمول تھا کہ سال بھر کے خرچ کے لیے تمام ازواج مطہراتؓ کو غلہ تقسیم کردیا جاتا تھا مگر سال تمام بھی نہ ہونے پاتا تھا کہ غلہ ختم ہوجاتا تھا اور فاقہ پر فاقہ شروع ہوجاتا تھا کیونکہ غلہ کا بڑا حصہ ضرورت مندوں کی نذر کردیا جاتا تھا۔