تحریر: چوہدری عرفان یوسف
یہ غالباََ 2006کی بات ہے میں بہاﺅالدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں پڑھتا تھا اور یونیورسٹی کے ہاسٹل میں ہی رہتا تھا ۔میرے روم میٹ ماس کمیونیکشن ڈپارٹمنٹ سے تھے۔ایک صبح انہوں نے مجھے بتایا کہ آج ہمارے ڈپارٹمنٹ میں جاوید چوہدری صاحب آرہے ہیں ۔جاوید چوہدری صاحب کے کالموں کے ذریعے ان سے شناسائی تھی سو میں بھی مقررہ وقت پر ڈپارٹمنٹ کے آڈیٹوریم میں پہنچ گیا۔یہ میری ان سے پہلی ملاقات تھی۔اس دن انہوں نے صحافتی اصولوں پر گفتگو کی تھی اور ایک اچھے صحافی کی خصوصیات بیان کی تھیں کہ اچھا صحافی ایماندار ہوتا ہے، اس کا جھکاﺅ کسی کی طرف نہیں ہوتا اور وہ غیر جانبدار ہوتا ہے وغیرہ وغیرہ۔اس کے بعد میں اکثر انکا کالم پڑھتا تھا۔وہ اپنے کالموں میں ہمیشہ سچ گوئی کا درس دیتے ، اچھے معاشرے کیسے بنتے ہیں ان کے گر سکھاتے،پوری دنیا میں اپنے سفر کے احوال سناتے ، لوگوں کے نفسیاتی مسائل کی تشخیص اور علاج بتاتے، ظلم کے سامنے ڈٹ جانے کا درس دیتے ،دوسرے ملکوں کے اچھے نظام کا اپنے کالم میں ذکر کرتے اور پاکستان میں ایسے ہی نظام کو لانے کا درس دیتے۔اس طرح کے کالم پڑھنے کے بعد میرے دل میں ان کے لیے قدر بن گئی کہ یہ اچھا بندہ ہے۔اچھی باتیں کرتا ہے۔مگر وہ کہتے ہیں ناکہ ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی ۔2011میں جب عرب سپرنگ کا آغاز ہوا اور مختلف عرب ممالک میں لوگ اپنے حقوق کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے تو جاوید چوہدری نے بے شمار کالم لکھے اور ان کی جدوجہد کو سراہا اور اپنے کالموں کے ذریعے پاکستان میں نظام کو بدلنے کے لیے ایسی ہی جدوجہد کی خواہش کا اظہار کرتے۔میرے دل میں بھی چونکہ انقلاب کی چنگاری ہر وقت بھڑکتی رہتی تھی کہ کب وہ وقت آئے گا اور لوگ ظلم کے نظام کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور وہ پاکستان حاصل کر لیں جو علامہ اقبال کا خواب تھاتو جاوید چوہدری صاحب کے کالم پڑھ کر دل میں ان کی قدر اور بڑھ گئی۔مگر پھر 2013کا آغاز ہوا۔پاکستان میں ستر سال سے قائم اشرافیہ کے نظام کے خلاف آواز بلند ہونے لگی اور لوگ اس نظام کو بدلنے کیلئے اس آواز کے گرد جمع ہونے لگے ۔پھر 2014میں اس آواز میں او ر شدت آگئی اور 23لوگوں نے ایسے ہی نظام کے حصول کے لیے جس کی تلقین جاوید چوہدری صاحب اپنے کالموں میں کرتے تھے وقت کے ظالموں اور جابروں کے سامنے کلمہ حق بلند کرتے ہوئے ا پنی جانوں کی قربانی بھی دے دی، ہزاروں لوگ پابند سلاسل بھی ہوگئے ، سینکڑوں لوگ ہمیشہ کیلئے معذور ہوگئے ۔مگر میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب ملک میں تبدیلی نظام کے پاکیزہ جذبوں کے خلاف جاوید چوہدری کو اپنے کالموں میں زہر اگلتے دیکھا،میں حیران رہ گیا کہ کیا یہ وہی جاوید چوہدری صاحب ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اپنے کالموں کے ذریعے لوگوں کو تیار کررہے تھے ان کا ذہن بنا رہے تھے کہ پاکستان میں نظام کی تبدیلی ضروری ہے، نظام میں اصلاحات ضروری ہیں اور اب جب لوگ اٹھ کھڑے ہوئے تو یہ اپنے کالموں میں وقت کے فرعونوں ، ظالموں اور جابروں کی سائیڈ لے رہے ہیں۔اپنے ان سینکڑوں کالموں سے منحرف ہوگئے ہیں اور مظلوموں کی بجائے ظالموں کی صف میں کھڑے نظر آرہے ہیں۔مجھے ان کے 2006کے کہے الفاظ یاد آنے لگ گئے کہ صحافی غیر جانبدار ہوتا ہے مگر مجھے ان کے کالموں میں جانبداری نظرآنے لگی،تب انہوں نے کہا تھا صحافی ایماندار ہوتا ہے مجھے وہ اپنی حرکتوں کی وجہ سے بے ایمان لگنے لگے۔انہوں نے کہا تھا کہ صحافی بکاﺅ نہیں ہوتا مجھے وہ بکاﺅ نظر آنے لگے۔2013سے 2018تک ملک میں حکومت کرنے والے جابروں کے آگے پیچھے نظر آنے لگے۔جون 2014میں ماڈل ٹاﺅن میں خون کی ہولی کھیلنے والوںکو بچاتے نظر آنے لگے۔ظلم کے نظام کے خلاف کھڑے ہونے والوں کو غلط اور اشرافیہ کے نظام کو سپورٹ کرتے نظر آنے لگے۔تب مجھے احساس ہوا کہ ہر شعبے میں کچھ رانگ نمبر ہوتے ہیں جو کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ ہیں ۔جو اپنے ضمیر کو بیچ دیتے ہلاشبہ جاوید چوہدری صاحب کی حرکتوں کو دیکھ کر بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ صحافتی دنیا کے رانگ نمبر ہیں۔

رانگ نمبر