صبح رو رو کر شام ہوتی ہے
صبح تڑپ کر تمام ہوتی ہے

سامنے چشم مست کے ساقی
کس کو پرواہِ جام ہوتی ہے

کوئی غنچہ کھلا کے بلبل کو
بے کلی زرِ دام ہوتی ہے

ہم جو کہتے ہیں کچھ اشاروں سے
یہ خطا لاکلام ہوتی ہے