کٹیگریز کے ساتھ سلوک یکساں ہونا چاہیے۔عدالتی معاون شاہد حامد نے عدالت کے روبرو موقف20180924_155733 اختیار کیا کہ 2002 سے آج تک کسی پاکستانی کی شہریت منسوخ نہیں ہوئی، غیر ملکی شہریت کا مقصد نقل و حرکت میں آسانی ہے، بعض لوگ اپنے بچوں کو غیر ملکی شہریت دلواتے ہیں، سرکاری اداروں میں دہری شہریت کے حامل افسر نہیں ہونے چاہیے، حکومت کو سکیورٹی مسائل مد نظر رکھ کر فیصلہ کرنا ہوگا، بہتر ہو گا کہ عدالت حکومت اور پارلیمنٹ کو فیصلہ کرنے دے۔جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ڈاکٹرز اور اساتذہ کی دہری شہریت میں قباحت نہیں لیکن بعض عہدوں پر ملک سے مکمل وفاداری لازمی ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ ایک ساتھ دو کشتیوں میں سوار نہیں ہوا جاسکتا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پالیسی بنانے کا اختیار حکومت کو ہے، اراکین پارلیمنٹ کے لیے دہری شہریت پر پابندی ہے تو بیوروکریٹس پر کیوں نہیں، ایک ڈی آئی جی نے کینیڈا کی خاتون سے شادی کی، بظاہر ان کے بچوں کی حوالگی کا مسئلہ عدالت میں آیا لیکن اصل جھگڑا کینیڈا کے پیسے سے بنے گھر کا تھا، ملک کی بدنامی کا باعث بننے والوں کے ساتھ رعایت نہیں ہونی چاہیے، ملک کو دھوکہ دیکر بیرون ملک جائیدادیں بنانے والے آج بھی عہدوں پر ہیں، سرکاری افسران باہر جاکر چھٹیاں لیتے رہے فارغ ہونے پر عدالت چلے گئے۔عدالت عظمیٰ نے دہری شہریت سے متعلق ازخود نوٹس کیس کا فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ سرکاری افسران کی دہری شہریت پر حکومت کو سفارشات دیں گے اور اہم عہدوں پردہری شہریت کے حامل افراد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کریں گے۔