2اسلام آباد ۔ 12 جون (اے پی پی) وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ سزائے موت پاکستان کے آئین اور قانون کے مطابق ہے،کسی دباؤ میں آئے بغیر سزائے موت پر عملدرآمد جاری رہے گا، اس کے خلاف طوفان برپا کرنے والے ممالک کو ہمارے قانون کا احترام کرنا چاہیے، کسی این جی او کو ملک کے مفادات، ثقافت اور اقدار کے خلاف کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، پاکستان کے مفادات کے خلاف کام کرنے والی مقامی اور غیر ملکی این جی اوز کے خلاف بھرپور کارروائی کریں گے اور اس سلسلے میں کسی دباؤ کو قبول نہیں کریں گے، تاہم ملک کے قانون اور صرف اپنے چارٹر کے تحت کام کرنے والی مقامی اور بین الاقوامی این جی اوز کی سپورٹ کریں گے۔ جمعہ کو پارلیمنٹ ہاؤس میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی این جی اوز کے معاملے پر تفصیل سے بات پارلیمنٹ میں کرونگا تاہم این جی اوز کے حوالے سے گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان میں مادر پدر آزادی کی پالیسی چل رہی تھی، سال ہا سال سے ہماری انٹیلی جنس ایجنسیوں کی رپورٹوں پر کوئی کارروائی نہیں ہو رہی تھی، کسی این جی او کا کام اس کے چارٹر کے تحت اگر اسلام آباد میں ہے تو وہ بلوچستان، گلگت بلتستان یا قبائلی علاقوں میں سرگرم عمل تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ نیک نام این جی اوز عوام کی فلاح و بہبود اور اپنے چارٹر کے تحت کام کر رہی ہیں، ایک سال پہلے ہم نے فیصلہ کیا کہ اب این جی اوز کے حوالے سے مادر پدر آزادی نہیں چلے گی۔ انہوں نے کہا کہ ذرائع ابلاغ کے توسط سے میرا بین الاقوامی این جی اوز اور ان کی حکومتوں کیلئے یہ پیغام ہے کہ اچھی این جی اوز کو پاکستان کے قاعدے اور قانون اور ہمارے مفاد کا احترام کرنا ہوگا، یہ نہیں ہو سکتا کہ یہ رجسٹرڈ کسی اور مقصد کیلئے ہوں اور کام کوئی اور کر رہی ہوں، اچھا کام کرنے والی این جی اوز کی سپورٹ کریں گے مگر انکی چھتری کے نیچے کام کرنے والی منفی سرگرمیوں میں ملوث این جی اوز کو ہرگز اجازت نہیں دینگے۔ انٹیلی جنس رپورٹوں کے مطابق بعض این جی اوز ملک کے خلاف کام کر رہی ہیں، انکے خلاف کارروائی کریں گے اور اس حوالے سے کوئی سفارش یا دباؤ قبول نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بعض این جی اوز گنی اور زمبیا میں زجسٹرڈ ہیں اور پاکستان میں بلوچستان اور گلگت بلتستان کی صورتحال پر فوکس کر رہی ہیں، بھارت، سری لنکا سمیت دیگر ممالک میں بھی اس حوالے سے قانون اور ضابطے موجود ہیں، وزیراعظم نے معاون خصوصی برائے خارجہ امور طارق فاطمی کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کی ہے جس میں دیگر وزارتوں کے نمائندے بھی شامل ہیں، یہ این جی اوز کے حوالے سے پالیسی کو حتمی شکل دے گی۔ انہوں نے کہا کہ 12 ممالک نے پاکستان کے موقف کا اعادہ کیا ہے اور تین ممالک اسرائیل، بھارت اور امریکہ نے مخالفت کی ہے اور ان این جی اوز کی حمایت کی ہے، ہمارا ملک قرضوں میں جکڑا ہوا ہے، قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ملکی مفادات، کلچر اور اقدار کے خلاف کسی این جی او کو کام کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دینگے۔ انہوں نے کہا کہ بعض ممالک ہمارے ارکان پارلیمنٹ کو صرف مخالفت میں تقریر کرنے پر ویزہ دینے سے انکار کر دیتے ہیں، یہ ان کا اختیار ہے، کیا ہمیں یہ اختیار نہیں ہے کہ ہم ان این جی اوز جو یہاں رجسٹرڈ نہیں ہیں اور ملک کے خلاف کام کر رہی ہیں انکے خلاف کارروائی کریں۔ سزائے موت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ نان ایشوز کو ایشو بنایا جاتا ہے، یورپی ممالک نے پاکستان میں جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کا ساتھ دیا، ہم انکے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے آئین اور قانون کے تحت سزائے موت قانونی معاملہ ہے، یہاں دہشتگرد یہ نہیں دیکھتے کہ کون معصوم ہے اور کون بے گناہ ہے، جب انہیں سزائے موت ہوتی ہے تو ایک طوفان برپا ہو جاتا ہے، ایسے طوفان برپا کرنے والے ممالک سے کہتا ہوں کہ ہم آپ کے قانون کا احترام کرتے ہیں، آپ ہمارے قانون کا احترام کریں۔ انہوں نے کہا کہ شفقت حسین کیس کا مقصد عدالتی نظام کو بدنام کرنا تھا، اس کی بچپن کی تصاویر نکال کر دکھائی گئیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسی مقامی این جی اوز کو بھی ضرور خوف و خطرہ ہونا چاہیے جو بیرونی پیسہ لے کر ان ممالک کے ایجنڈے پر کام کر رہی ہیں اور ہمارے ملک کو گھُن کی طرح چاٹ رہی ہیں، انکے حق میں جتنی بڑی سفارش ہوئی اس کو خاطر میں نہیں لائیں گے اور کارروائی کریں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شفقت حسین کی عمر 23 سال تھی اور اس کا مقدمہ ماتحت عدالتوں سے لیکر سپریم کورٹ تک گیا ہے، اس نے 8 سالہ بچے کو قتل کرنے کا اعتراف کیا ہے، اس شخص کی پھانسی روکنے کے حوالے سے ہم نے متعلقہ صوبائی حکومت سے استفسار کیا ہے جس کا جواب چند دنوں میں آ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایک اور شخص آفتاب بہادر کا کیس بھی میرے سامنے آیا ہے، جس پر یورپی یونین نے ایک طوفان برپا کیا ہے کہ اس شخص کی عمر بھی کم ہے، پچھلے پانچ سالوں میں 10 ہزار کیسزکو نابالغ قرار دیا گیا ہے، یہ تاثر دینا کہ نابالغ کو پھانسی دے رہے ہیں، یہ پروپیگنڈہ بند ہونا چاہیے اور ہمارے عدالتی نظام اور آئین پر اعتماد ہونا چاہیے، اس پر انگلی اٹھانا درست اقدام نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سزائے موت کا سلسلہ جاری رہے گا، ہم لوکل این جی اوز سے گزارش کرتے ہیں کہ چند ٹکوں کی خاطر باہر ممالک کو غلط اطلاعات فراہم نہ کریں، اس سے ہمارے ملک کا وقار مجروح ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض این جی اوز کے بورڈ میں سابق سیاستدانوں اور سابق ارکان پارلیمنٹ کو شامل کیا گیا ہے تاکہ ان کے گھناؤنے کام کو کسی حد تک تحفظ مل سکے، وزیراعظم نے جو کمیٹی تشکیل دی ہے وہ اس معاملے کا بھی جائزہ لے گی۔ انہوں نے کہا کہ جن این جی اوز کے خلاف واضح اور ٹھوس ثبوت سامنے آئے ان کے خلاف ہر صورت کارروائی کی جائے گی اور ملک میں کام کرنے والی این جی اوز کو صرف اور صرف پاکستان کے قانون اور ان کے چارٹر کے تحت کام کرنے کی اجازت ہوگی۔ ایک اور سوال کے جواب پر انہوں نے کہا کہ اصغر خان کیس پر تفتیش ہو رہی ہے، میرے خلاف تفتیش کے عمل کو تیز کرنے کے حوالے سے الزامات لگ رہے ہیں۔