بوسنیا میں سربرینتسا قتل عام کی 20 برسی کے موقع پر ہزاروں افراد ایک خصوصی یادگاری تقریب میں شرکت کر رہے ہیں۔ اس قتل عام کو یورپ میں دوسری عالمی جنگ کے بعد کا سب سے خونریز واقعہ تصور کیا جاتا ہے۔

20 برس قبل جولائی کے پانچ ایام میں سرب فورسز نے آٹھ ہزار بوسنیائی مسلمان مردوں اور لڑکوں کو قتل کیا اور کئی ماہ تک یہ لاشیں اس علاقے میں پڑی رہیں۔ بعد میں جرم کے شواہد مٹانے کی غرض سے سربوں نے نہایت منظم انداز سے ان انسانی باقیات کو چھوٹی چھوٹی قبروں میں پھینک دیا، جو اب تک برآمد ہو رہی ہیں۔ اس واقعے میں مارے جانے والے ایک ہزار سے زائد افراد کی باقیات اب تک مل چکی ہیں۔

حال ہی میں 136 افراد کی شناخت اس واقعے میں ہلاک ہونے والوں کے طور پر ہوئی۔ مشرقی بوسنیا کے علاقے سربرینتسا میں ان ہلاک شدگان کے لیے بنائے گئے قبرستان میں ان ملنے والی باقیات کو اس واقعے کی 20 برسی کے موقع پر ہی دفن کیا جا رہا ہے۔ پوٹوکاری یادگاری قبرستان ہی میں آج ہفتے کو اس واقعے کی مرکزی یادگاری تقریب بھی منعقد ہو رہی ہے۔

اقوام متحدہ کی ایک عدالت نے اس قتل عام کو ’نسل کشی‘ قرار دیا تھا، تاہم متعدد سرب اس اصطلاع کو غیر درست قرار دیتے رہے ہیں اور ان کی جانب سے ہمیشہ اس واقعے میں ہلاک شدگان کی تعداد پر سوال اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ سربیا میں آج بھی اس موضوع پر دو متضاد آراء دیکھی جا سکتی ہیں۔

بوسنیائی سرب رہنما مِلوراڈ ڈوڈِک نے گزشتہ ماہ سربرینتسا واقعے کو ’20ویں صدی کا سب سے بڑا جھوٹ‘ قرار دیا تھا۔ دوسری جانب سربیا میں مغربی یورپ کے ساتھ انضمام کے خواہش مند حلقے اس واقعے کو خونریز قرار دیتے ہیں۔ اسی تناظر میں اس مرتبہ سربیا کے وزیراعظم الیگزانڈر وووِچ ان تقریبات میں شرکت کے لیے بوسنیا پہنچے ہیں۔

یہ بات بھی اہم ہے کہ گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک قرارداد پیش کی گئی تھی، جس میں سربرینتسا قتل عام کو ’نسل کشی‘ قرار دینے کی سفارش کی گئی تھی، تاہم روس نے اس قرارداد کو ویٹو کر دیا۔

وووِچ حکومت یورپی یونین کی رکنیت کے حصول کے لیے کوشاں ہے اور خود کو مغرب نواز قرار دیتی ہے جب کہ یورپی یونین میں شمولیت کی ایک شرط علاقائی مفاہمت بھی ہے، یہی وجہ ہے کہ سربیا کے وزیراعظم پہلی مرتبہ اس واقعے کی یادگاری تقریب میں شریک ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ میں امریکا کی سفیر سمینتھا پاور سن 1992 تا 1995 جاری رہنے والی اس جنگ کی عینی شاہد بھی ہیں۔ 24 برس کی عمر میں وہ بطور صحافی بوسنیا میں تھیں، جب سربرینتسا کے قتلِ عام کا واقعہ پیش آیا۔ ایک بوسنیائی اخبار سے بات چیت میں پاور نے کہا، ’آپ مفاہمتی ماحول اس وقت تک پیدا نہیں کر سکتا، جب تک اس نسل کشی کو جھٹلاتے رہیں گے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا، ’یہ بہت اہم بات ہے کہ وووِچ خود وہاں جا رہے ہیں اور خود دیکھیں گے کہ سربرینتسا کی نسل کشی نے کیا کیا تباہی پیدا کی۔‘

ہفتے کے روز منعقدہ اس یادگاری تقریب میں سابق امریکی صدر بل کلنٹن اور یورپی یونین کی سربراہ برائے خارجہ امور فیڈریکا موریگینی بھی شرکت کر رہی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ اس یادگاری تقریب میں شریک افراد کی مجموعی تعداد پچاس ہزار کے لگ بھگ ہے۔