اطالوی نژادپاکستانی لڑکی ثناء چیمہ کی موت سے گجرات کانام عالمی میڈیاگردش کررہاتودوسری جانب بغیرتحقیق کے sanaلڑکی کی ہلاکت کوقتل قرارددینےکی خبروں نے میڈیاکے کردارپرسوالات اٹھادیئے ہیں۔
گجرات کے نواحی گاؤں منگوال (کنجاہ) میں ایک اور یورپ پلٹ لڑکی اپنی موت کے پیچھے نئی بحث کا آغاز کر گئی۔ پاکستانی میڈیا کا تو کیا ہی کہنا کہ نئی نئی آزادی میں آپے سے باہر ہے اور اسی نوآموز آزادی اظہار نے یورپی میڈیا کو اپنی بھڑاس نکالنے کا موقع دیدیا ، پھر اسی بھڑا س میں وہ پاکستان کیساتھ ساتھ اسلام کو بھی اپنے مذہبی تعصب کی آگ میں جلاتے رہے۔ واقعہ یہ تھا کہ
گجرات کے علاقہ کنجاہ میں اٹلی سے آئی 26 سالہ ثناء چیمہ کی موت واقع ہوئی ، گھر والوں کے مطابق لڑکی جب سے اٹلی سے آئی تھی اسے بلڈ پریشر اور معدہ کا مسئلہ 27867387_299379030585943_26461362044866703_nدرپیش تھا جس پر وہ مقامی ہسپتال سے باقاعدہ ادویات اور علاج معالجہ بھی کروا رہی تھی۔ ایک صبح حالت ذیادہ بگڑنے پر ہسپتال لے جاتے ہوئے اس کی موت واقع ہو گئی ۔ جس پر گھر والوں نے شرعی انداز سے تدفین وغیرہ کے معاملات انجام دیئے۔ مگر 4 روز بعد جب یہ خبر اٹالوی میڈیا کو ملی تو انہوں نےموقع غنیمت جانا اور موت کو قتل کا رنگ دیکر پاکستانی کمیونٹی کے خلاف 4 روز تک خوب زہر اگلا۔اس کے رد عمل میں اٹلی میں موجود پاکستانی کمیونٹی نے بھی احتجاج ریکارڈ کروایا اور اصل حقائق آنے تک کسی بھی طرح کی منفی رائے قائم کرنے نہ کرنے کی تلقین کی۔سوشل میڈیا پر خبریں وائرل ہونے کے بعد گجرات پولیس نے بھی پھرتی دکھاتے ہوئے ایس ایچ او تھانہ کنجاہ کی مدعیت میں مقتولہ کے باپ غلام مصطفیٰ، بھائی عدنان مصطفیٰ اور چچا مظہر اقبال پر زیر دفعہ 302کے تحت مقدمہ درج کرلیا ۔ مقامی صحافیوں کے ہاتھوں جیسے ہی خبر نیشنل میڈیا کو ملی تو ہر کوئی بریکنگ اور سب سے پہلے کے چکر میں نئی نئی کہانیاں تراشنے لگا۔ کسی چینل نے یہ کہا کہ لڑکی اٹلی میں پسند کی شادی کرنا چاہتی تھی جس بناء پر والدین نے غیرت میں آ کر قتل کر دیا۔ایک چینل نے تو حد کر دی کے کسی کامران نامی لڑکےکی تصویر چلا دی اور کہا کہ اس لڑکے سے چکر کی وجہ سے لڑکی کو قتل کر دیا گیا، وہ تو بھلا ہو اس لڑکے کا کہ اس نےسوشل میڈیا پر اپنی ویڈیو ڈال کر بتا دیا کہ مجھے ایسی کسی بات کا نہیں پتہ اور میرا تو نام بھی وہ نہیں جو چینل چلا رہے ہیں
یہاں بات صرف یہ کرنی تھی کہ کچھ جگہوں پر ملک کی نامی اور بدنامی کا بھی خیال رکھا جانا چاہیئے، قتل کسی کا بھی ہو اور وجہ کچھ بھی ہو وہ قابل معافی نہیں ہے لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر یہ قتل نہ ہوا اور لڑکی طبعی موت مری ہو تو آپ سوچ بھی نہیں سکتے کہ اس دوران ہماری یورپ میں بالعموم اور اٹلی میں بلخصوص مقیم خاندان کس قرب سے گزرے ہوں گئے۔ وہاں کے میڈیا نے ہمیں کس کس نام سے یاد کیا ہو گا ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ متعلقہ اداروں کو کاروائی کر لینے دی جاتی اور فرانزک رپورٹ آنے تک خاموشی اختیار کر لی جاتی پھر آنے والے فیصلے پر اپنی من پسند رپورٹنگ کر لی جاتی
ابھی کی صورتحال یہ ہے کہ سیشن جج نے اپنی نگرانی میں دوبارہ قبر کشائی کروائی ہے اور فرانزک ٹیسٹ کیلئے سیمپل بھجوا دیئے گئے ہیں ابھی حتمی رپورٹ آنے میں کچھ دن لگ جائیں گے پھر ہی موت کی اصل وجہ سامنے آئی گئی تو خدا راہ تب تک کیلئے اسے موت ہی مان لیں اور مرحومہ کے گھر والوں اور رشتہ داروں کو مجرم قرار نہ دیں