زندانِ صدف میں ہو اندھیروں کا جسے ڈر
وہ قطرۂ نیساں کبھی بنتا نہیں گوہر

گل برگ تمناؤں کا خاروں سے ہے رشتہ
سنجوگ یہاں دیکھے ہیں کچھ ایسے ہی اکثر

اپنے ہی لہو سے کبھی سینچی تھی جو مٹی
اب اس میں ہوا سانس بھی لینا یہاں دوبھر

الجھے ہوئے میلے سے دریدہ سے کفن میں
اخلاص ہے ششدر کہ نہیں آنکھ کوئی تر

سرمائے کے اس دور میں ہر چیز ہے بکتی
پھر مرمریں جسموں کے عیاں کیوں نہ ہوں جوہر

ہر سمت بہاریں اور گل رنگ نظارے ہیں
رنجور ہے دل اپنا دلگیر ہے من او سر

یہ راستہ مقتل کا ہے معلوم ہے پھر بھی
سرکش ہیں مرے لفظ مری سوچ ہے خود سر

کچھ لفظ ادا کرتا ہوں آنکھوں کے لبوں سے
کرتا ہوں میں اظہار بہ ہر حال ستمگر