راولپنڈی اسلام آباد کی سڑکوں پر آزاد کشمیر حکومت کی سرکاری گاڑیوں کا راج ۔
آزاد کشمیر کی سرکار عوام کے ٹیکسوں سے خریدی ہوئی گاڑیوں کا بیدریغ استعمال کرنے لگی .
اسلام آباد (ثاقب راٹھور ) وفاقی دار الحکومت اور راولپنڈی کی سڑکوں پر گھومتی آزاد کشمیر کی سرکاری گاڑیاں حکومتی شاہ خرچیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ایک طرف حکومت آزاد کشمیر خزانہ خالی ہونے کا ڈھنڈورا پٹتی ہے ۔جب کے دوسری طرف سرکاری گاڑیوں کو ذاتی ملکیت سمجھ کر خاندان کے ساتھ سیر سپاٹے کیے جاتے ہیں ۔جو کے سرکاری وسائل کا بلا وجہ اور بے جا خرچ کیا جا رہا ہے ۔جب کے عوام آزاد کشمیر کو صحت کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ سڑکیں کھنڈرات بن گئی ہیں ۔اور بہانہ فنڈز کے نہ ہونے کا بنایا جاتا ہے ۔عوام کے ٹیکسوں سے خریدی ہوئی گاڑیوں کو ذاتی سمجھ کر عیاشی کی جا رہی ہے دارلحکومت اسلام آباد آزادکشمیر کے صدر۔ وزیراعظم۔ سپیکر۔ وزرا اور سینکڑوں کی تعداد میں بیوروکریٹ سرکاری گاڑیوں اور عملے سمیت موجود ہوتے ہیں۔آزادکشمیر کادارلحکومت تو مظفرآباد میں ہونے کے باوجود اسلام آباد راولپنڈی میں سرکاری وسائل کا غیر ضروری استعمال کیا جا رہا ہے۔کیا یہ سارے لوگ حکومت اور محکموں سے سرکاری گاڑی، فیول سمیت دورے کے مقاصد بتا کر تحریری اجازت لیکر آتے ہیں۔ حکمرانوں کو تو مظفرآباد سول سیکرٹریٹ اور حلقوں میں ہونا چاہیے اور ملازموں کو اپنے اپنے دفاتر میں ہونا چاہیے۔ لیکن یہ سب لوگ سرکاری خرچ پر سیر سپاٹے کرنے اسلام آباد اور راولپنڈی کا رخ کرتے ہیں ۔ کرپشن اور میرٹ کو پامال کرنے اور مالشیوں اور پالشیوں کیلیے ہی یہ حکومتی ڈھانچہ قائم کیا گیا ہے۔جن کی اس طرح کی عیاشیوں پر سالانہ 65 ارب روپے خزانے سے خرچ ہورہا اور عوام کو وعدوں اور اعلانات پر ٹرخایا جا رہا ہے ۔موجودہ وزیر اعظم جب اپوزیشن لیڈر تھے تو کشمیر ہاوس کو گرانے سمیت یہ دعوے کرتے تھے کہ ہم حکومت بنا کر اسلام آباد کے نہ خودچکر لگایں گے اور نہ سرکاری ملازموں کو لگانے دیں گے لیکن وزیراعظم بننے کے بعد یہ تمام دعوے سگریٹ کے دھویں کی طرح انہوں نے ہوا میں اڑا دئیے۔۔ایسی گاڑیاں آپکو صدر کے ہوٹلوں کے باہر ،ایم ایچ کی پارکنگ ،لیاقت باغ ،مری رودڈ ، کشمیر ہائوس اور اسلام آباد کی پارکوں کی پارکنگ میں کھڑی نظر آتی ہیں ۔جو کہ عوام اور حکمرانوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے ۔