برطانیہ میں بابائے اردو کہلانے والے اردو زبان کے استاد۔رسل انیس سو اٹھارہ میں پیدا ہوئے رالف رسل سولہ سال کی عمر میں کمیونسٹ پارٹی کے رکن بن گئے تھے۔ انہوں نے انیس سو چالیس میں جامع کیمبرج میں تعلیم مکمل کی اور دوسری جنگ عظیم کے شروع ہونے پر فوج میں بھرتی ہو گئے۔ اس دوران انہوں نے ساڑھے تین سال انڈیا میں گزارے۔

ہندوستان آمد

انہوں نے انڈیا میں فوج کی نوکری کے دوران اردو سیکھی۔ لیکن یہ نوکری کی ضرورت نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اردو اس لیے سیکھی کہ وہ ان لوگوں کے کام آ سکیں جن کی خدمت کمیونزم کا مقصد تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ فوج میں رہتے ہوئے ان سپاہیوں میں سیاسی شعور بیدار کرنا چاہتے تھے جنہیں بھرتی ہی اسی لیے کیا گیا کہ وہ غیر سیاسی تھے۔ کمیونسٹ پارٹی کے رسالے پڑھنا شروع کر دیے بلکہ چندہ بھی دینے لگے۔ جنگ کے خاتمے کے بعد انہوں نے اردو اور سنسکرت میں ڈگری حاصل کی۔

لہجہ

رالف رسل کے لہجہ میں پٹھانوں کا لہجہ غالب تھا۔ انہوں نے ایک بار رالف رسل جس کی وجہ وہ یہ بتاتے تھے کہانڈین آرمی میں میرے اردو کے منشی ایک پٹھان تھے ۔ انہی سے میں نے یہ لہجہ اپنایا پھر فوج میں میرے ساتھ ایک پٹھان محمد نواز تھے جو برما کے محاذ پر ایک ہی خیمہ میں رہتے تھے ۔ ان کے لہجہ نے مجھ پر ایسا اثر چھوڑ کہ اب تک نہیں گیا۔

اردو کی خدمت

انہوں نے اپنی زندگی اردو زبان میں تحقیق اور درس و تدریس میں گزاری۔انہوں نے انڈیا اور پاکستان میں کافی وقت گزارا تھا۔ ان کی تصانیف میں تھری مغل پوئٹس جو انہوں نے خورشید الاسلام کے ساتھ مِل کر لکھی تھی، غالب: لائف اینڈ لیٹرز اور اے نیو کورس ان اردو اینڈ سپوکن ہندی شامل ہیں۔ وہ انیس سو انچاس سے انیس سو اکیاسی تک جامع لندن میں اردو زبان کی تعلیم دیتے رہے۔